سپریم کورٹ نے ایڈووکیٹ لطیف کھوسہ کی عمران خان سے ملاقات کی استدعاء مسترد کرتے ہوئے ایڈووکیٹ سلمان صفدر کو فرینڈ آف دی کورٹ مقرر کرتے ہوئے بانی پی ٹی آئی کی جیل میں حالت، دستیاب سہولیات بارے رپورٹ بدھ کو جمع کرانے کی ہدایت کردی۔
منگل کو سپریم کورٹ میں چیف جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس شاہد بلال حسن پر مشتمل دو رکنی بینچ نے بانی پی ٹی آئی سے وکلاء کی معاملات بارے دائر درخواست پر سماعت کی۔
اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان عدالت میں پیش ہوئے اور بتایا کہ 24اگست 2023ء کے حکم نامے کی روشنی میں تحریری جواب 28 اگست 2023ء کو چیمبر میں جمع کرا دیا تھا، بانی پی ٹی آئی اس وقت اٹک جیل میں تھے، جب آرڈر دیا گیا تھا، چیمبر میں جمع کرائی رپورٹ کیساتھ 5 اگست سے لیکر 18اگست تک کی میڈیکل رپورٹس بھی شامل تھیں۔
اٹارنی جنرل نے استدعا کی کہ عدالتی حکم میں ذکر کردیں ہم نے رپورٹ جمع کرا دی تھی۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ 24اگست 2023ء کے حکم نامے کے بعد ایسا کوئی آرڈر ریکارڈ پر نہیں جس پر سپریم کورٹ نے اطمینان کا اظہار کیا ہو، ہم سلمان صفدر کو فرینڈ آف کورٹ مقرر کر رہے ہیں، ہمیں ان پر مکمل اعتماد ہے۔
سپریم کورٹ نے ایڈووکیٹ سلمان صفدر کو ہدایت کی کہ سلمان صفدر جائیں اور بانی پی ٹی آئی کی جیل میں حالت زار، دستیاب سہولیات بارے تحریری رپورٹ دیں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ذہن میں رکھیں سلمان صفدر فرینڈ آف دی کورٹ ہیں، انہیں جیل کے باہر انتظار نہ کرایا جائے، توقع ہے احترام کیساتھ ہمارے فرینڈ آف دی کورٹ کو اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی تک رسائی دی جائے گی، فرینڈ آف دی کورٹ کو کوئی بھی مسئلہ ہو تو میرا ذاتی سٹاف افسر موجود ہے۔
ایڈووکیٹ سلمان صفدر نے استفسار کیا کہ کیا میری رپورٹ جمع کرانے کا سکوپ صرف لیونگ کنڈیشن تک ہی محدود ہے؟، آنکھ کے طبی معائنہ کے بعد بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق کچھ خدشات موجود ہیں جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ لیونگ کنڈیشن کی رپورٹ چیمبر میں جمع کرائیں۔
بعد ازاں عدالت نے حکم نامہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ کیس میں اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان پیش ہوئے، 24اگست 2023ء کے حکم نامے کے تحت جو رپورٹ جمع کرائی گئی اس وقت بانی پی ٹی آئی اٹک جیل میں تھے، یہ مناسب ہے بانی پی ٹی آئی کی لیونگ کنڈیشن بارے رپورٹ منگوائی جائے۔
حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ سلمان صفدر بطور فرینڈ آف دی کورٹ اڈیالہ جیل جائیں انہیں بانی پی ٹی آئی کی جیل بریک تک رسائی دی جائے تاکہ وہ بدھ تک تحریری جواب داخل کر سکیں۔
سماعت کے اختتام پر ایڈووکیٹ لطیف کھوسہ پھر روسٹرم پر آئے اور استدعا کی کہ مجھے بھی ملاقات کی اجازت دی جائے جس پر سپریم کورٹ نے لطیف کھوسہ کو ملاقات کی اجازت دینے کی استدعا مسترد کردی۔
بعد ازاں کیس کی سماعت جمعرات تک ملتوی کردی گئی۔




