یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی آف چائنہ (یو ایس ٹی سی) کی ایک تحقیقی ٹیم نے قابلِ توسیع کوانٹم نیٹ ورکس کے شعبے میں نمایاں پیش رفت حاصل کر لی ہےجس کے نتیجے میں یہ انقلابی ٹیکنالوجی اب عملی استعمال کے مزید قریب پہنچ گئی ہے۔ یہ اہم تحقیق ’نیچر ‘ اور ’سائنس‘ میں شائع ہوئی ہے۔
کوانٹم انفارمیشن سائنس کا بنیادی ہدف انتہائی مؤثر اور نہایت محفوظ کوانٹم نیٹ ورکس کی تشکیل ہے۔ اس مقصد کے لئے کوانٹم اینٹینگلمنٹ کی طویل فاصلے تک ترسیل ضروری ہوتی ہے۔ یہ اینٹینگلمنٹ ایسا مظہر ہے جس میں ذرّات ایک منفرد انداز میں آپس میں جُڑ جاتے ہیں۔ ایسی اینٹینگلمنٹ کوانٹم سطح پر محفوظ مواصلات ممکن بنانے اور مستقبل کے کوانٹم کمپیوٹرز کو آپس میں جوڑنے کے لئے ناگزیر ہے۔ تاہم ایک بڑی رکاوٹ آپٹیکل فائبرز میں سگنل کا ضیاع ہے۔ سگنل ضائع ہونے سے فاصلے کے ساتھ ترسیلی صلاحیت میں شدید کمی آ جاتی ہے جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر نیٹ ورکس قائم کرنا عملی طور پر ممکن نہیں رہتا۔
اس مسئلے کو حل کرنےکے لئے ٹیم نے “کوانٹم ریپیٹر” کے تصور پر کام کیا جو طویل مواصلاتی رابطے کو چھوٹے چھوٹےحصوں میں تقسیم کرتا ہے، ہر حصے میں اینٹینگلمنٹ قائم کرتا ہے اور پھر انہیں آپس میں جوڑ دیتا ہے۔اہم چیلنج یہ رہا ہے کہ کوانٹم اینٹینگلمنٹ عموماً اتنی دیرپا نہیں ہوتی کہ مختلف حصوں کو جوڑنے کے لئے درکار وقت تک برقرار رہ سکے۔ یہی وجہ ہے کہ کوانٹم ریپیٹر مؤثر طریقے سے کام نہیں کر پاتا۔
یو ایس ٹی سی کی ٹیم نے دیرپا ٹریپڈ آئن کوانٹم میموری، انتہائی مؤثر آئن فوٹون انٹرفیس اور اعلیٰ درستگی کے حامل تجرباتی طریقہ کار تیار کر کے اس بنیادی رکاوٹ پر قابو پا لیا ہے۔ ان تمام جدتوں کے امتزاج سے ایسی کوانٹم اینٹینگلمنٹ ممکن ہوئی جو مختلف حصوں کو جوڑنے کے لئے درکار وقت سے کہیں زیادہ دیر تک برقرار رہتی ہے۔
ساؤنڈ بائٹ (چینی): پان جیان وی، رکن، چائنیز اکیڈمی آف سائنسز،ایگزیکٹو نائب صدر، یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی آف چائنہ
"اگر مجموعی طور پر دیکھا جائے تو اس لیبارٹری میں ہم جو کام کرتے ہیں اس میں کوانٹم نیٹ ورک کے بنیادی ماڈیولز تیار کرنے پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ ایسے ماڈیول کا بنیادی کام آپٹیکل فائبرز میں فوٹون کے ضیاع پر قابو پانا ہوتا ہے۔ ایک سادہ مثال دیتا ہوں۔ کوانٹم ریپیٹر کے بغیر اگر ہم ایک ہزار کلومیٹر کے فاصلے پر کوانٹم کمیونی کیشن قائم کرنے کی کوشش کریں تو ہمیں ہر 300 برس میں صرف ایک جوڑا اینٹینگلڈ فوٹونز منتقل کرنے کا موقع ملے گا۔ لیکن اگر 10 ریپیٹر اسٹیشن نصب ہوں تو ہم فی سیکنڈ 10 کروڑ تک اینٹینگلڈ فوٹون جوڑوں کو منتقل کر سکتے ہیں۔
اس تجربے میں ہماری پہلی بڑی کامیابی ایک بنیادی کوانٹم ریپیٹر ماڈیول کی تیاری تھی جس نے کوانٹم اینٹینگلمنٹ کی تیز رفتار اور طویل فاصلے تک ترسیل کو ممکن بنایا۔
اس مؤثر اور تیز رفتار اینٹینگلمنٹ ترسیل سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہم ڈیوائس سے آزاد کوانٹم کلیدی تقسیم ممکن بنا سکتے ہیں۔ چاہے جڑا ہوا فوٹون کا ذریعہ کسی غیر معتبر فراہم کنندہ سے ہی کیوں نہ آئے پیدا شدہ کلید بدستور محفوظ رہتی ہے۔‘‘
یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی آف چائنہ کے مطابق یہ دنیا میں کوانٹم ریپیٹر کے لئے ایک قابل توسیع بنیادی بلاک کی پہلی نمائش ہے۔ یہ طویل فاصلے کے کوانٹم نیٹ ورکس کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
ایک متعلقہ پیش رفت میں ٹیم نے فاصلے پر موجود 2 روبیڈیم ایٹمز کے درمیان اعلیٰ معیار کی انٹینگلمنٹ پیدا کرنے کے لئے اس سے ملتی جلتی تکنیک استعمال کی۔ اس بنیاد پر انہوں نے پہلی بار شہر کی سطح پر فائبر نیٹ ورکس پر ڈیوائس سے آزاد کوانٹم کلیدی تقسیم (ڈی آئی کیو کے ڈی) کا مظاہرہ کیا۔
ڈیوائس سے آزاد کوانٹم کلیدی تقسیم کو محفوظ رابطے کے لئے بہترین معیار سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس کی حفاظت کوانٹم فزکس کے قوانین کے تحت یقینی ہے اور یہ کسی بھی ممکنہ ڈیوائس کی خامیوں سے آزاد ہوتی ہے۔
تحقیقی ٹیم نے ڈیوائس سے آزاد کوانٹم کلیدی تقسیم (ڈی آئی کیو کے ڈی) کو 11 کلومیٹر فائبر نیٹ ورک پر کامیابی کے ساتھ نافذ کیا جس سے پچھلے نتائج کے مقابلے میں ممکنہ فاصلہ تقریباً 3 ہزار گنا بڑھ گیا۔ انہوں نے یہ بھی تصدیق کی کہ 100 کلومیٹر کے فاصلے پر محفوظ کوانٹم کلیدیں تیار کرنا ممکن ہے جو سابقہ بین الاقوامی ریکارڈ سے دو سے زائد گنا بہتر ہے۔
محققین نے ان نتائج کو چین کے لئے کوانٹم کمیونیکیشن اور نیٹ ورکنگ کے شعبے میں اہم سنگِ میل قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ فائبر پر مبنی کوانٹم نیٹ ورکس نظریاتی تصور سے عملی اطلاق کی جانب بڑھ رہے ہیں۔
ہیفے، چین سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹیکسٹ آن سکرین:
چین نے قابل توسیع کوانٹم نیٹ ورک میں اہم پیش رفت حاصل کر لی
یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی سائنسی تحقیق عالمی جرائد میں شائع ہوئی
کوانٹم اینٹینگلمنٹ سے محفوظ اور تیز رفتار مواصلات ممکن بنائے گئے ہیں
ٹیم نے دیرپا کوانٹم میموری اور درست تجرباتی طریقے تیار کئے
کوانٹم ریپیٹر ماڈیول طویل فاصلے تک اینٹینگلمنٹ کی ترسیل ممکن بناتا ہے
10 ریپیٹر اسٹیشنز سے ایک سیکنڈ میں کروڑوں فوٹونز منتقل کئے جا سکتے ہیں
ڈیوائس سے آزاد کوانٹم کلیدی تقسیم اب شہر کی سطح پر بھی ممکن ہے
11 کلومیٹر فائبر نیٹ ورک پر ریکارڈ شدہ فاصلے کو تین ہزار گنا بڑھایا گیا
100 کلومیٹر فاصلے پر محفوظ کوانٹم کلیدیں تیار کی جا سکتی ہیں
نتائج کے مطابق کوانٹم نیٹ ورک عملی طور پر قابل استعمال ثابت ہوا ہے
چینی سائنسدانوں کی تحقیق کوانٹم کمیونیکیشن کے شعبے میں اہم سنگِ میل ہے




