منگل, فروری 10, 2026
پاکستانبچوں کو گداگری سے نکال کر تحفظ دینا حکومت کی ذمہ داری،...

بچوں کو گداگری سے نکال کر تحفظ دینا حکومت کی ذمہ داری، وزیراعلیٰ کے پی

وزیراعلی خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کو وگرنسی کنٹرول اینڈ ری ہیبلیٹیشن بل سے متعلق بریفنگ دی گئی ہے جس میں بھیک پر پہلی بار وارننگ، بحالی مرکز منتقلی یا 1ماہ قید اور جرمانے کی تجویزدی گئی ہے، بار بار بھیک مانگنے پر ایک سال تک قید اور 50ہزار روپے تک جرمانہ، فراڈ اور دھوکا دہی سے بھیک مانگنے پر 1سے 2سال قید کی سزا تجویز کی گئی ہے۔

بریفنگ کے دوران کہا گیا کہ جعلی معذوری اور فریب سے مبنی بھیک مانگنا اب قابل سزا سنگین جرم ہوگا جبکہ منظم و جبری بھیک میں ملوث عناصر کیلئے 3سال تک قید اور 4لاکھ روپے تک جرمانہ تجویز کیا گیا ہے۔

وزیراعلیٰ نے بل کو صوبائی کابینہ میں پیش کرنے کی منظوری دیتے ہوئے کہا ہے کہ بل صوبے میں بھیک مافیا کے مکمل خاتمے کیلئے تاریخی قانون سازی ہے۔

انہوں نے کہاکہ بچوں سے بھیک منگوانے والوں کیساتھ کوئی رعایت نہیں ہوگی، بچوں کو گداگری سے نکال کر تحفظ دینا حکومت کی آئینی و اخلاقی ذمہ داری ہے، نیا بل گداگروں کے منظم نیٹ ورکس اور استحصال کیخلاف فیصلہ کن وار ثابت ہوگا، نیا وگرنسی بل منظم بھیک کو قابل سزا جرم بناتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ منظم اور جبری بھیک میں ملوث عناصر کیلئے سخت سزائیں تجویز کی ہیں، بحالی مراکز، ہنرمندی اور روزگار کے ذریعے بھیک کے ناسور کو جڑ سے ختم کیا جائیگا۔

انکا کہنا تھا عوام سے اپیل ہے کہ خیرات منظم نیٹ ورکس کے بجائے مستند بحالی نظام کے ذریعے دیں، بھیک مافیا کے سرغنوں اور سہولت کاروں کیلئے سخت ترین سزاؤں کی شقیں شامل کی گئی ہیں، بھیک کو پیشہ اور کاروبار بنانیوالوں کیخلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائیگی۔

انٹرنیوز
+ posts
متعلقہ خبریں
- Advertisment -
Google search engine

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

error: Content is protected !!