جکارتہ (شِنہوا) جکارتہ سے تعلق رکھنے والی 31 سالہ مارکیٹنگ پروفیشنل رتنا دیونتا کے لئے اپنی پہلی کار خریدنا کوئی آسان فیصلہ نہیں تھا۔
ماحول دوست، جدید اور سستی، یہ ان کی تین اہم ترجیحات تھیں۔ شروع میں انہوں نے ان کے ڈیزائن اور جدید خصوصیات سے متاثر ہو کر کئی الیکٹرک گاڑیوں (ای ویز) پر غور کیا لیکن جلد ہی ان کی قیمتیں ان کے بجٹ سے باہر ثابت ہوئیں۔
رتنا نے شِنہوا کو بتایا کہ میں نے مہینوں تحقیق کرنے، ریویوز پڑھنے اور قیمتوں کا موازنہ کرنے میں گزارے۔ پھر میں نے بی وائی ڈی آٹو1 کا اشتہار دیکھا۔ یہ میری ضرورت کے عین مطابق تھی اور قیمت میں بھی مناسب تھی۔
رتنا کا انتخاب انڈونیشیا میں بڑھتے ہوئے اس رجحان کی عکاسی کرتا ہے جہاں چینی ساختہ الیکٹرک گاڑیوں کو نوجوان صارفین میں تیزی سے پسند کیا جا رہا ہے۔ کسی زمانے میں صرف مخصوص طبقے تک محدود سمجھی جانے والی یہ ای ویز اب پٹرول سے چلنے والی گاڑیوں کے ایک عملی متبادل کے طور پر ابھر رہی ہیں۔
رتنا جیسے انڈونیشی نوجوانوں کے لئے الیکٹرک گاڑی کا انتخاب محض کاربن کے اخراج میں کمی لانا نہیں ہے بلکہ اپنے بجٹ سے تجاوز کئے بغیر روزمرہ کی زندگی کو پائیدار ترقی کے اہداف کے مطابق ڈھالنا بھی ہے۔
یوگیاکارتا سے تعلق رکھنے والے 30 سالہ آئی ٹی پروفیشنل رینڈی ویرینڈا، جو اب جکارتہ میں کام کرتے ہیں، بھی اسی طرح کے خیالات رکھتے ہیں۔ گزشتہ ہفتے کے آخر میں انہوں نے انڈونیشیا انٹرنیشنل موٹر شو کا دورہ کیا، جہاں ان کی خاص توجہ وولنگ پر رہی جو کہ ایک چینی کار ساز کمپنی ہے اور انڈونیشیا کی ای وی مارکیٹ میں مسلسل قدم جما رہی ہے۔
رینڈی کی خاص دلچسپی وولنگ ایئر ای وی میں تھی جو کہ ایک مختصر اور سستی قیمت والا ماڈل ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی، وارنٹی اور ڈیلر نیٹ ورک سب ہی مناسب لگے۔ اس نے قیمت اور کارکردگی کے درمیان ایک بہترین توازن فراہم کیا ہے۔




