لندن (شِنہوا) برطانوی پارلیمنٹ کے سابق رکن مارک لوگن، جنہوں نے کئی سال چین میں کام کیا، نے کہا ہے کہ چین میں گزشتہ دو دہائیوں کے دوران میرے ذاتی اور پیشہ ورانہ رابطوں سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ چین کے متعلق مغرب کے تصورات حقائق سے بہت دور ہیں۔
لندن سکول آف اکنامکس اینڈ پولیٹیکل سائنس میں منعقدہ چائنہ ڈیویلپمنٹ فورم 2026 کے موقع پر شِنہوا کے ساتھ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ مغربی معاشروں میں چین کو بدستور وسیع پیمانے پر غلط سمجھا جاتا ہے اور چین کی متعدد ثقافتی اور سماجی خصوصیات کو ابھی تک مکمل طور پر تسلیم نہیں کیا گیا ہے۔
شمالی آئر لینڈ میں پیدا ہونے والے لوگن نے سیاست میں حصہ لینے سے قبل چین میں متعدد سالوں تک کام کیا تھا۔
وہ بولٹن نارتھ ایسٹ کی نمائندگی کے لئے 2019 میں برطانوی ایوان زیریں کے رکن منتخب ہوئے تھے اور 2024 تک خدمات انجام دیتے رہے۔
انہوں نے چین میں اپنے ابتدائی رابطے کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ میرے جیسے شخص کو ہمیشہ چینی ثقافت نے بہت مسحور کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جہاں میں نے پرورش پائی ہے وہاں چینی ثقافت روزمرہ کی زندگی میں پہلے ہی دیکھی جا سکتی ہے۔ میرے قصبے کی آبادی 50 ہزار ہے لیکن 20 سال قبل یہاں 24 چینی ریستوران موجود تھے۔
انہوں نے کہا کہ چینی معاشرے کی سب سے نمایاں خصوصیت عام لوگوں کے متعلق اس کا کھلا پن اور دوستی ہے۔ چین کے لوگ بہت دوستانہ اور خیرمقدمی ہیں، وہ چاہتے ہیں کہ آپ ان کی ثقافت کا حصہ بنیں، اسے سمجھیں اور تبادلہ خیال کریں۔
وسیع تر عالمی منظرنامے کو دیکھتے ہوئے لوگن نے کہا کہ عالمی معاملات میں چین کا کردار ایک معروضی حقیقت ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ چین ایک حقیقت ہے اور یہ عالمی معاملات پر بڑھتا ہوا اثر ڈالنے والا ہے۔
انہوں نے اس دیرینہ مغربی مفروضے پر تنقید کی جس کے مطابق دیگر ممالک بالآخر مغربی ماڈلز کی طرف مائل ہوں گے۔




