سٹاک ہوم (شِنہوا) سویڈن کے ’کے ٹی ایچ رائل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی‘ کے صدر آندریس سودر ہوم نے کہا ہے کہ یورپ اگر عالمی طور مسابقت برقرار رکھنا چاہتا ہے تو وہ خود کو تنہا کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا اور اس ضمن میں چین کے ساتھ تعاون ضروری ہے۔
انہوں نے یہ بات شِنہوا کے ساتھ ایک حالیہ انٹرویو میں کہی۔ انہوں نے اکتوبر 2025 کے وسط میں سویڈن کی دیگر تین جامعات کے صدور کے ہمراہ چینی جامعات اور تحقیقی اداروں کا دورہ کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ اس دورے کا مقصد اس بات کا براہ راست مشاہدہ کرنا تھا کہ چینی جامعات کیسے سائنسی تحقیق اور اختراع کو منظم کرتی ہیں اور ایسے شعبوں کی نشاندہی کرنا تھا جہاں تعاون دونوں اطراف کے لئے فائدہ مند ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مجموعی طور پر اس دورے نے ہمیں تعاون کے لئے قیمتی اور متعدد ٹھوس تجاویز فراہم کی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ میں چینی جامعات کی تیز رفتار ترقی اور تحقیق و اختراع میں ان کی مضبوط رفتار سے متاثر ہوا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ چینی تحقیقی ماحول کو مستحکم مالی معاونت مل رہی ہے اور یہ حکمت عملی کے لحاظ سے مرکوز ہے۔




