بیجنگ (شِنہوا) 2025 میں چین کی سونے کی پیداوار میں معمولی اضافہ ہوا جبکہ مجموعی کھپت میں کمی دیکھی گئی جس کی وجہ زیورات سے سرمایہ کاری مصنوعات کی جانب رجحان میں تبدیلی ہے۔
چائنہ گولڈ ایسوسی ایشن کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال چین نے 381.339 ٹن سونا پیدا کیا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 1.09 فیصد اضافہ ہے جبکہ درآمد شدہ خام مال سے سونے کی پیداوار 8.81 فیصد بڑھ کر 170.681 ٹن تک پہنچ گئی۔
ایسوسی ایشن نے بتایا کہ 2025 میں تلاش، ترقی اور ٹیکنالوجی سے متعلق متعدد منصوبوں میں مرحلہ وار اہم پیش رفت حاصل کی گئی۔
گزشتہ سال سونے کی مجموعی کھپت 950.096 ٹن رہی، جو ایک سال پہلے کے مقابلے میں 3.57 فیصد کم ہے۔ زیورات کی طلب میں نمایاں کمی آئی جبکہ سونے کی اینٹوں اور سکوں کی خریداری میں تیزی سے اضافہ ہوا اور یہ چین میں پہلی بار ہوا کہ سالانہ بنیاد پر سرمایہ کاری کے لئے استعمال ہونے والے سونے کی مقدار زیورات کی کھپت سے تجاوز کر گئی۔
ملکی منڈیوں میں سونے سے متعلق تجارتی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ ہوا جہاں شنگھائی گولڈ ایکسچینج اور شنگھائی فیوچرز ایکسچینج دونوں میں سونے کے مجموعی کاروبار میں زبردست اضافہ ریکارڈ کیا گیا جو بلند قیمتوں کے ماحول میں سرمایہ کاروں کی بڑھتی ہوئی شمولیت کی عکاسی کرتا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق بلند قیمتوں کے باعث سونے پر مبنی ایکسچینج ٹریڈڈ فنڈز (ای ٹی ایف) میں بھی مضبوط سرمایہ کاری دیکھنے میں آئی جن میں سال کے دوران 133.118 ٹن کا اضافہ ہوا جو 2024 کے مقابلے میں 149.91 فیصد زیادہ ہے اور دسمبر کے اختتام تک ای ٹی ایف میں سونے کے مجموعی ذخائر 247.852 ٹن تک پہنچ گئے۔




