تہران (شِنہوا) ایرانی ذرائع ابلاغ نے کہا ہے کہ ایران کی مسلح افواج کے ایک ڈرون نے بین الاقوامی سمندر میں "نگرانی کا مشن” مکمل کر لیا ہے۔ یہ خبر ایسے وقت سامنے آئی ہے جب امریکی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایک ایرانی ڈرون اس وقت مار گرایا جب وہ "جارحانہ انداز” میں ایک طیارہ بردار بحری جہاز کے قریب آیا تھا۔
فارس نیوز ایجنسی نے نامعلوم ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ اس ڈرون نے ایران سے ملحقہ علاقوں میں فوجی نقل و حرکت کی "کامیابی سے” نگرانی کی اور زمینی اڈوں کو بر وقت ڈیٹا منتقل کیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایسے مشن خطے کی "مجموعی نگرانی” کے لئے انتہائی اہم ہیں۔
ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نے ایک باخبر ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایران کا ایک ڈرون سے رابطہ منقطع ہو گیا ہے، جس کی وجوہات کی تحقیقات جاری ہیں اور نتیجہ سامنے آنے کے بعد اعلان کیا جائے گا۔
امریکی سنٹرل کمانڈ نے اس سے قبل کہا تھا کہ ایک امریکی ایف-35 سی جنگی طیارے کو بحیرہ عرب میں ایرانی شاہد-139 ڈرون کو مار گرانا پڑا۔ کمانڈ کے مطابق یہ ڈرون غیر ضروری طور پر یو ایس ایس ابراہم لنکن کی جانب بڑھا جبکہ یہ طیارہ بردار بحری جہاز بین الاقوامی سمندر میں ایرانی ساحل سے تقریباً 800 کلومیٹر دور سفر کر رہا تھا۔
امریکی بیان کے مطابق یہ ڈرون "دفاعی اقدام” کے تحت مار گرایا گیا۔ فوج نے کہا کہ اس واقعے میں کوئی امریکی فوجی زخمی نہیں ہوا اور نہ ہی کسی سازوسامان کو نقصان پہنچا۔




