وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ پنجاب میں سول مارشل لاء ہے، وہاں کے حکمران آمروں کی گود سے جنے ہیں۔
نشتر ہال میں یوتھ کنونشن کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ پاکستان کے حالات دن بدن خراب ہوتے جا رہے ہیں، نوجوان ہی ملک کی امید ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بڑا انسان وہ ہے جس کا خواب بڑا ہو، میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ وزیراعلیٰ بنوں، وزیر اعلیٰ تو بن گیا لیکن آگے بڑھنا بڑا خواب ہے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ پنجاب میں پی ٹی آئی ایم این ایز سے اسلحہ و گاڑیاں ٹپمرڈ کی جا رہی ہیں، بشری بی بی کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں انہیں بھی قید کیا ہوا ہے، بانی کی بہنوں پر زہریلا پانی پھینکا جاتا ہے۔
ایک صوبے کے وزیراعلیٰ کا نام سٹاپ لسٹ میں ڈال دیا جاتا ہے، دوسرے صوبے کے وزیراعلیٰ کو بڑے طیارے میں بیرون ملک لے جایا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ فاٹا کو ضم کیا گیا لیکن مالی طور پر حصہ نہیں دیا جارہا، آئی ایم ایف نے چارج شیٹ بنائی، 5ہزار ارب روپے وزراء ہڑپ کر گئے۔
انکا کہنا تھا کہ تیراہ کے لوگوں کو زبردستی مجبور کیا گیا ہے، ملٹری آپریشن کسی مسئلے کا حل نہیں، اس سے دہشتگردی کم نہیں بڑھتی ہے، دہشتگردی کے خاتمے کیلئے مذہبی و سیاسی جماعتوں کو بٹھا کر پالیسی بنانا ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ وفاق ہمارے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کررہا ہے، جو انکے ارادے ہیں شاید میں نہ رہوں، آواز اٹھانا جنازے اٹھانے سے بہتر ہے، اس بار ہم بند کمروں کے فیصلے مسلط نہیں ہونے دینگے۔




