ماسکو (شِنہوا) روس نے ایران کے گرد ابھرتی ہوئی صورتحال کے ایٹمی ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) پر ممکنہ اثرات کے حوالے سے اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔
روسی خبر رساں ایجنسی آر آئی اے نووستی کے مطابق روسی نائب وزیر خارجہ سرگئی ریابکوف نے کہا ہے کہ گزشتہ سال سے ہونے والی پیش رفت نے نہ صرف بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی کی بلکہ ایٹمی عدم پھیلاؤ کی عالمی کوششوں کے لئے بھی خطرات پیدا کر دیئے ہیں۔
اسرائیل نے 13 جون کو ایران کی فوجی اور ایٹمی تنصیبات پر ایک برق رفتار حملہ کیا تھا، جس سے ایک تنازع شروع ہوا جسے "12 روزہ جنگ” کا نام دیا گیا۔ ریابکوف نے اس تنازع کو یاد دلایا جس کے دوران ایٹمی تنصیبات، جو زیادہ تر ایٹمی توانائی کے عالمی ادارے (آئی اے ای اے) کے معائنے اور تحفظ میں تھیں، حملوں کا نشانہ بنیں۔
ریابکوف نے سوال اٹھایا کہ چونکہ اس وقت حملے کا نشانہ بننے والے تمام مقامات بڑی حد تک آئی اے ای اے کے تحفظ میں تھے تو یہ سب کیوں بنایا گیا، اگر یہ حفاظتی اقدامات کسی چیز کی ضمانت ہی نہیں دیتے۔
اپریل میں شیڈول این پی ٹی کی اگلی جائزہ کانفرنس کے حوالے سے ریابکوف نے کہا کہ وہ فورم کے ماحول اور حالیہ واقعات کے عدم پھیلاؤ پر پڑنے والے ممکنہ اثرات کے بارے میں فکر مند ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ این پی ٹی جو نصف صدی سے زائد عرصے سے عالمی تزویراتی استحکام کی بنیاد رہا ہے، اب شدید دباؤ کا شکار ہو سکتا ہے۔




