بیجنگ (شِنہوا) چینی محققین کے ایک گروہ نے یہ واضح کیا ہے کہ معاشرتی تنہائی دماغ کے مخصوص حصوں میں “آئرن کے جمع ہونے” کو متحرک کرتی ہے، جو بے چینی کا سبب بنتا ہے۔ یہ دریافت اضطرابی امراض کے لئے نئی تدابیر کی تیاری میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
سائنسی جریدے ’سیل میٹابولزم‘ میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق روزمرہ کی زندگی میں بہت سے لوگ طویل عرصے تک اکیلے رہنے کے بعد کسی خاص واقعے کے بغیر بھی بے چینی اور بے قراری محسوس کرتے ہیں اور بعض اوقات سماجی میل جول سے خوف بھی پیدا ہو جاتا ہے۔ تنہائی سے جنم لینے والی اس بے چینی اور اس کے پس پردہ حیاتیاتی عوامل طویل عرصے سے سائنسی برادری کے لئے ایک معمہ رہے ہیں۔
چین کی ساؤتھ چائنہ یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی، چین کی مشرقی ژے جیانگ یونیورسٹی اور چین کے جنوبی صوبے گوانگ ڈونگ کی سدرن میڈیکل یونیورسٹی کے محققین نے یہ مطالعہ چوہوں پر کیا جنہیں انسانی تنہائی جیسی صورتحال میں رکھا گیا تھا۔
محققین نے دریافت کیا کہ تنہا رہنے والے چوہوں کے دماغ کے ایک حصے "وینٹرل ہیپوکیمپس میں آئرن کی غیر معمولی مقدار جمع ہو گئی تھی۔ یہ حصہ جذبات کو کنٹرول کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
مزید تحقیق سے یہ بات سامنے آئی کہ اضافی آئرن ایک غلط سگنل کے طور پر کام کرتا ہے، جو آئرن-الفا سائنوکلین (الفا-سائن) نامی مالیکیول کو فعال کر دیتا ہے۔ یہ عمل اعصابی خلیات کی حد سے زیادہ سرگرمی کو جنم دیتا ہے، جیسے کوئی برقی شارٹ سرکٹ مسلسل جسم کو بے چینی کے الارم بھیج رہا ہو۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ تبدیلی نہایت درستگی کے ساتھ دماغ کے جذباتی مرکز کو نشانہ بناتی ہے، جس کے نتیجے میں دماغ سماجی تنہائی کے خلاف ایک انتہائی مخصوص تناؤ پر مبنی ردعمل ظاہر کرتا ہے۔
یہ تحقیق ظاہر کرتی ہے کہ نفسیاتی دباؤ کے تحت آئرن جو اعصابی صحت کو برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے، براہ راست اعصابی جوڑ کی ساخت اور فعالیت کی ازسر نو تشکیل کو متحرک کر سکتا ہے۔ اس طریقہ کار کو” فیرو پلاسٹیسٹی“ کا نام دیا گیا ہے، جو دماغ میں آئرن کے میٹابولزم کی خرابیوں کو جذباتی مسائل سے براہ راست جوڑتا ہے اور ذہنی بیماریوں کو سمجھنے کے لئے ایک نیا زاویہ فراہم کرتا ہے۔
محققین نے چوہوں کو ناک کے ذریعے مختلف ایجنٹس دیئے، جو مالیکیولر آئرن یا الفا -سائنوکلین کو ہدف بنا کر مداخلت کرتے تھے۔ 2 ہفتوں کے علاج کے بعد ان چوہوں میں بے چینی سے متعلق رویوں میں نمایاں کمی آئی اور ان کی اعصابی سرگرمی معمول پر آ گئی۔




