اسلام آباد (شِنہوا) پاکستان میں چائنہ چیمبر آف کامرس (سی سی سی پی کے) کے زیر اہتمام پاک چین معدنی تعاون فورم اسلام آباد میں منعقد ہوا۔
فورم کا عنوان ’’معدنیات سے وابستہ ہماری مشترکہ خوشحالی‘‘ تھا اور اس کا مقصد دونوں ممالک میں معدنیات کی صنعت کے نظام کے گہرے انضمام کو فروغ دینا تھا۔ فورم میں دونوں ممالک کے تقریباً 900 سرکاری حکام، کان کنی کے ماہرین اور کاروباری نمائندوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر پاکستانی اور چینی اداروں کے درمیان مفاہمت کی متعدد یادداشتوں پر دستخط بھی کئے گئے۔
وزیر منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات احسن اقبال نے اپنے کلیدی خطاب میں کہا کہ چین پاکستان کی کان کنی کی صنعت کے لئے ایک بنیادی تزویراتی شراکت دار ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ دونوں ممالک کے اداروں کے درمیان تعاون کے متعدد منصوبوں نے شاندار نتائج حاصل کئے ہیں۔ انہوں نے اس توقع کا اظہار کیا کہ چینی کمپنیاں پاکستان میں صاف توانائی اور اعلیٰ معیار کی جدید مینوفیکچرنگ کی ترقی میں تعاون جاری رکھیں گی۔
وفاقی وزیر برائے پٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ معدنیات کی تلاش، دھات پگھلانے اور دیگر شعبوں میں چین کے جدید تجربے نے پاکستان کی معدنیات کی برآمدات اور توانائی کے تحفظ کو نمایاں طور پر بہتر بنایا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اس وقت کان کنی میں سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنانے اور منظوری کے عمل کو آسان بنانے پر کام کر رہا ہے اور چین کے ساتھ مکمل ویلیو چین میں تعاون کو گہرا کرنے کا خواہاں ہے۔
پاکستان میں چین کے سفیر جیانگ زائی ڈونگ نے کہا کہ چین اور پاکستان کے درمیان معدنیات کے شعبے پر مبنی پہلا فورم، جو مکمل ویلیو چین تعاون کی بنیاد پر منعقد کیا گیا، ہمہ جہت طور پر نئی راہیں ہموار کرنے اور ترقی میں نمایاں پیش رفت کے حصول کے لئے سازگار ہے۔
جیانگ نے تجویز دی کہ دونوں جانب کے اداروں کو قومی ترقی کے فائدے، ماحول دوستی اور کان کنی کے علاقوں میں بسنے والے لوگوں کے ساتھ حسن سلوک کے جذبے کے تحت تعاون کو فروغ دینا چاہیے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان مزید سازگار کاروباری ماحول پیدا کرے گا، ترقی اور سلامتی کے درمیان موثر ہم آہنگی پیدا کرے گا اور دونوں ممالک کے درمیان عملی تعاون کو مستحکم اور طویل مدتی ترقی کی طرف لے جائے گا۔
سی سی سی پی کے ، کے چیئرمین وانگ ہوئی ہوا نے کہا کہ مکمل ویلیو چین تعاون دونوں ممالک کی کان کنی کی صنعتوں کو ایک دوسرے کی تکمیلی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کا موقع دیتا ہے جس سے خام مال نکالنے کے عمل سے آگے بڑھ کر ویلیو ایڈیشن،صنعتی ترقی اور پائیدار معاشی اثرات کی جانب پیش رفت ہو گی۔




