جمعہ, جنوری 30, 2026
تازہ ترینچینی یونیورسٹی نے ماحول دوست خصوصیات کا حامل نیا صنعتی مواد تیار...

چینی یونیورسٹی نے ماحول دوست خصوصیات کا حامل نیا صنعتی مواد تیار کر لیا

چین کے شمالی علاقے میں واقع تیانجن یونیورسٹی کی ایک تحقیقی ٹیم نے حال ہی میں ایک نیا ایپوکسی ریزن تیار کیا ہے جو بلند درجۂ حرارت برداشت کرنے، دوبارہ قابلِ استعمال ہونے اور غیر معمولی لچک اور مضبوطی جیسی خصوصیات رکھتا ہے۔

ایپوکسی ریزنز کا انجینئرنگ،  خلائی صنعت اور الیکٹرانکس میں بڑے پیمانے پر استعمال کیا جاتاہے تاہم ایک بار سخت ہو جانے کے بعد اسے دوبارہ ڈھالنا یا استعمال کے قابل بنانا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔

ساؤنڈ بائٹ 1 (چینی): جیاؤ شوے وے، ڈاکٹریٹ کا طالبعلم، اسکول آف کیمیکل انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، تیانجن یونیورسٹی

"یہ مواد ایسے ہے جیسے جادوئی اسٹیکرز سے بنا کوئی قلعہ ہو۔ عام حالات میں یہ بالکل مضبوط رہتا ہے لیکن خاص حرارت ملنے پر یہ کھل کر ٹوٹ جاتا اور دوبارہ مکمل طور پر ایک نئی شکل اختیار کر لیتا ہے۔”

ساؤنڈ بائٹ 2 (چینی): وانگ ہوائی یوآن، پروفیسر، اسکول آف کیمیکل انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، تیانجن یونیورسٹی

"یہ ٹیکنالوجی وسیع اطلاقی صلاحیت رکھتی ہے اور مختلف اجزا سے بنے ہوئےمواد کے دوبارہ استعمال اور کارکردگی دونوں کو بہتر بنا سکتی ہے۔”

پروفیسر وانگ ہوائی یوآن نے کہا کہ اس ریزن کو کئی بار دوبارہ تیار کیا جا سکتا ہے اور اس کا جسمانی طور پر بار بار ری سائیکل کیا جانا بھی ممکن ہے۔

یہ نتائج عالمی جریدے ’’ ایڈوانسڈ میٹیریلز ‘‘کے ایک تحقیقی مقالے میں میں شائع کئے گئے ہیں۔

تیانجن، چین سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ٹیکسٹ آن سکرین:

تیانجن یونیورسٹی کے محققین نے نیا ایپوکسی ریزن تیار کیا

یہ مواد بلند درجۂ حرارت برداشت کر سکتا ہے

ایپوکسی ریزن دوبارہ استعمال کے قابل بھی ہے

غیر معمولی لچک اور مضبوطی اس کی نمایاں خصوصیات ہیں

مواد کا انجینئرنگ، خلائی صنعت اور الیکٹرانکس میں استعمال ممکن ہے

ایک بار سخت ہونے کے بعد اسے دوبارہ بھی ڈھالا جا سکتا ہے

جیاؤ شوے وےنے مواد  کوجادوئی اسٹیکرز سے بنے قلعے جیسا قرار دیا

حرارت ملنے پر یہ مواد نئی شکل اختیار کر لیتا ہے

پروفیسر وانگ کے مطابق یہ ٹیکنالوجی وسیع اطلاقی صلاحیت رکھتی ہے

عالمی جریدے ’’ ایڈوانسڈ میٹیریلز ‘‘ نے اس تحقیق کو شائع کیا ہے

شنہوا
+ posts
متعلقہ خبریں
- Advertisment -
Google search engine

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

error: Content is protected !!