اسلام آباد انتظامیہ نے لاہور میں ماں بچی کی مین ہول میں گر کے ہلاکت کے بعد کھلے گٹروں کو بند کرنا شروع کردیا۔
سی ڈی اے حکام کے مطابق سیوریج مین ہولز کے ڈھکن چوری ہونے سے بچانے کا کوئی میکانزم موجود نہیں ہے، لگایا گیا ڈھکن کچھ دن بعد غائب ہو جاتا ہے۔
حکام نے بتایا کہ سی ڈی اے کی حدود میں آنیوالے مین ہولز کی تعداد 30ہزار ہے جبکہ 600 سیوریج مین ہولز کے ڈھکن موجود نہیں ہیں۔
حکام کے مطابق ریٹ رننگ کنٹریکٹ کیلئے 1700سیوریج مین ہولز کو کور کرنے کا کہا گیا ہے، اتنی تعداد کا مقصد مستقبل میں ڈھکن کے چوری ہونے یا ٹوٹنے سے بچانے کیلئے ہے۔




