بیجنگ (شِنہوا) چین کی معیشت نے 14 ویں 5 سالہ منصوبے (2021-2025) کے دوران اختراع اور ماحول دوست ترقی کی جانب اپنی منتقلی کو تیز کر دیا ہے۔
ریاستی ٹیکس انتظامیہ کے اعداد و شمار کے مطابق جدید اور اعلیٰ معیار کے پیداواری شعبے نے زبردست ترقی دکھائی جہاں گزشتہ 5 سال کے دوران آلات بنانے والے شعبے کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی میں سالانہ اوسطاً 9.1 فیصد اضافہ ہوا۔
2025 کے دوران پیداواری شعبے کی مجموعی فروخت میں آلات سازی کا حصہ 47.7 فیصد رہا جو 2021 کے مقابلے میں 4.7 فیصد پوائنٹس زیادہ ہے۔ اس ترقی کی بڑی وجہ کمپیوٹر کمیونیکیشن اور آلات سازی کے شعبوں میں ہونے والا 2 ہندسوں کا نمایاں اضافہ ہے۔
گزشتہ 5 سال کی مدت میں اختراع میں بھی تیزی دیکھی گئی کیونکہ ہائی ٹیک صنعتوں کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی میں سالانہ اوسطاً 13.9 فیصد اضافہ ہوا۔ صرف 2025 میں سمارٹ کنزیومر ڈیوائسز، مربوط سرکٹ اور روبوٹ مینوفیکچرنگ کے شعبوں نے بالترتیب 32.4 فیصد، 19.2 فیصد اور 24 فیصد سالانہ ترقی ریکارڈ کی۔
ٹیکس ڈیٹا کے مطابق ڈیجیٹل تبدیلی اور ماحول دوست منتقلی کے عمل میں بھی نمایاں بہتری آئی ہے جہاں ڈیجیٹل معیشت کی بنیادی صنعتوں نے گزشتہ 5 سال میں سالانہ اوسطاً 10.5 فیصد اضافہ دیکھا۔
نئی توانائی والی گاڑیوں (این ای وی) کی پیداوار اور صاف توانائی کی پیداوار کے شعبوں کی فروخت میں بالترتیب سالانہ اوسطاً 49.5 فیصد اور 13.9 فیصد اضافہ ہوا۔ 2025 میں بجلی کی پیداوار سے حاصل ہونے والی مجموعی آمدنی میں صاف توانائی کا حصہ 38.5 فیصد رہا، جو 2021 کے مقابلے میں 6.9 فیصد پوائنٹس زیادہ ہے۔




