ہانگ کانگ (شِنہوا) چین کے ہانگ کانگ نے دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے کیونکہ 2026 میں یہاں ابتدائی عوامی پیشکش (آئی پی او) کا دھماکہ خیز سلسلہ جاری رہنے کی توقع ہے، جس سے وہ سرمایہ کار راغب ہو رہے ہیں جو چین کی ترقی کے امکانات سے مضبوط چینی اثاثوں پر نظر جما رہے ہیں۔
ہانگ کانگ سٹاک مارکیٹ نے 2025 میں 280 ارب ہانگ کانگ ڈالرز (تقریباً 35.9 ارب امریکی ڈالر) سے زائد کی رقم جمع کی، جس سے یہ دنیا کی سب سے بڑی آئی پی او منڈی بن گئی۔ ٹیکنالوجی کی درجنوں بڑی کمپنیوں کی فہرست کے ساتھ نیا سال تیزی کے ساتھ شروع ہوا جبکہ 400 کمپنیاں آئی پی او کی قطار میں ہیں۔
شہر میں منگل کو اختتام پذیر ہونے والے 19 ویں ایشیائی فنانشل فورم میں "اگلے سی اے ٹی ایل” کے امکانات پر بات چیت کی گئی جس نے گزشتہ مئی میں 35 ارب ہانگ کانگ ڈالر سے زائد جمع کئے تھے۔
فورم میں ہانگ کانگ ٹریڈ ڈیویلپمنٹ کونسل اور ای وائی کے جاری کئے گئے مشترکہ سروے کے نتائج سے ظاہر ہوا کہ 88 فیصد کاروباری رہنماؤں نے ہانگ کانگ کی مالیاتی منڈی کے ماحولیاتی نظام کو اس کی منفرد طاقت قرار دیا جس میں مضبوط آئی پی او کا سلسلہ شامل ہے۔
آسٹریلوی پرائیویٹ ایکویٹی فنڈ کے مینجر حسین رفاعی 1980 کی دہائی سے ہانگ کانگ کا کاروباری دورہ کر رہے ہیں اور چینی سرمایہ کاروں اور کمپنیوں کو مالی خدمات فراہم کر رہے ہیں۔ جب چینی اثاثوں میں سرمایہ کاروں کی دلچسپی بڑھی تو وہ اب فورم میں مین لینڈ اور ہانگ کانگ کے بروکرز کے ساتھ بڑے سودوں کی تلاش میں ملاقاتیں کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ آسٹریلیا اور چین کے درمیان خوراک، کان کنی اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے شعبوں سمیت دو طرفہ سرمایہ کاری کے لئے بہت گنجائش موجود ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ چینی اے آئی ماڈلز آسٹریلیا میں کارپوریٹ مینجمنٹ کو زیادہ موثر بنا سکتے ہیں۔
چائنہ انٹرنیشنل کیپٹل کارپوریشن لمیٹڈ کے صدر وانگ شو گوانگ نے کہا کہ ہانگ کانگ وہ جگہ ہے جہاں طویل مدتی عالمی سرمایہ جمع ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہانگ کانگ سٹاک مارکیٹ میں کمپنی کا عوام کے لئے حصص جاری کرنا نہ صرف عالمی سرمایہ تک رسائی کھولتا ہے بلکہ ہدف پر مبنی منڈیوں میں آگاہی اور موجودگی بھی فراہم کرتی ہے۔
سرمایہ کار اور فلاحی شخصیت پال پول مین نے فورم کے دوران کہا کہ آنے والے برسوں میں چین ماحول دوست ٹیکنالوجیز میں اپنی قیادت برقرار رکھے گا اور ہانگ کانگ کا مالیاتی ماحولیاتی نظام اور نئے کاروبار شروع کرنے کا ماحول کمپنیوں کو یہ ٹیکنالوجیز دنیا کے سامنے لانے میں مدد دے گا۔
جے پی مورگن کے ایشیا بحرالکاہل کے سی ای او جوئرڈ لینارٹ نے فورم کے افتتاحی عالمی بزنس سمٹ میں کہا کہ اثاثہ جاتی انتظام، سرمایہ اور تجارتی کاروبار میں ہانگ کانگ خطے کے دیگر مقامات پر حقیقی مسابقتی برتری رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہانگ کانگ کا چینی مین لینڈ کی منڈی تک رسائی کا راستہ بننا بہت اہم ہے کیونکہ یہاں سے سٹاک اور بانڈ کنیکٹ سکیموں کی وجہ سے شمال اور جنوب کی طرف بہت زیادہ سرمایہ آسانی سے آتا اور جاتا ہے۔




