جمعرات, جنوری 29, 2026
پاکستانرمضان نگہبان پیکج 47 ارب کا، 42 لاکھ خاندان مستفید ہونگے، عظمیٰ...

رمضان نگہبان پیکج 47 ارب کا، 42 لاکھ خاندان مستفید ہونگے، عظمیٰ بخاری

وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ رواں سال رمضان نگہبان پیکج 47ارب روپے پر مشتمل ہے جس سے 42لاکھ خاندان رمضان نگہبان کارڈ کے ذریعے مستفید ہونگے۔

لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انکا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے ہر منصوبے سے لاکھوں افراد کو فائدہ پہنچ رہا ہے، ستھرا پنجاب، رمضان نگہبان پیکج، فیلڈ ہسپتال اور دیگر عوامی فلاحی منصوبے حکومت کی ترجیحات میں شامل ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ رمضان میں مستحق خاندانوں کو پے آرڈر کے ذریعے 10ہزار روپے گھروں تک پہنچائے گئے تھے جبکہ اس بار رمضان نگہبان کارڈز پرنٹ ہو چکے ہیں اور رمضان المبارک سے قبل مستحق افراد تک پہنچا دئیے جائینگے۔

عظمی بخاری نے کہا کہ 5فروری کے بعد پنجاب حکومت کے پاس تمام شہریوں کا مکمل ڈیٹا دستیاب ہوگا جن افراد کی ماہانہ آمدن 45ہزار روپے سے کم ہے انہیں فہرست میں شامل کیا گیا ہے، اس مقصد کیلئے مردم شماری کی طرز پر گھر گھر سروے کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال 30لاکھ خاندانوں کو رمضان نگہبان پیکج دیا گیا تھا اس سال تعداد بڑھا دی گئی ہے، ستھرا پنجاب کے ورکرز کو بھی رمضان نگہبان کارڈ فراہم کیا جائیگا۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ رواں سال رمضان المبارک میں نگہبان دسترخوان، مریم کے مہمان پروگرام بھی شروع کیا جا رہا ہے جس کے تحت پنجاب کی ہر تحصیل میں دسترخوان لگائے جائینگے اور کم از کم 2ہزار افراد کو معیاری افطاری فراہم کی جائیگی۔

انکے مطابق سہولت بازاروں میں اشیائے خوردونوش مارکیٹ سے 10سے 15روپے کم قیمت پر دستیاب ہیں، پنجاب کے 30اضلاع میں 65 سہولت بازار فعال کئے جا چکے ہیں اور رواں سال یہ گزشتہ سال سے بہتر ہونگے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز کے تمام اقدامات عوامی مفاد کیلئے ہیں پارٹی سیاست کیلئے نہیں، تحصیل کی سطح پر 1500مزید الیکٹرک بسوں کی منظوری بھی دیدی گئی ہے۔

عظمی بخاری نے واضح کیا کہ رمضان المبارک میں منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی کیخلاف سخت کارروائیاں جاری ہیں اور کسی کو ناجائز منافع خوری کی اجازت نہیں دی جائیگی، لیبر کلاس کے راشن کارڈ میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔

گلبرگ پلازہ میں آتشزدگی کے واقعہ پر انہوں نے کہا کہ حکومت نے صرف 5منٹ میں ریسپانس دیا، بروقت کارروائی نہ ہوتی تو بڑا سانحہ پیش آ سکتا تھا تاہم حکومتی اقدامات سے قیمتی جانوں اور املاک کو محفوظ بنایا گیا۔

انٹرنیوز
+ posts
متعلقہ خبریں
- Advertisment -
Google search engine

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

error: Content is protected !!