نیٹو نے کہا ہے کہ یورپ امریکا کے بغیر اپنا دفاع کرنے کے قابل نہیں، اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ یورپ یا یورپی یونین امریکا کے بغیر خود کو محفوظ رکھ سکتی ہے تو وہ خواب دیکھ رہا ہے۔
نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک روٹے نے برسلز میں یورپی قانون سازوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ یورپ اور امریکا ایک دوسرے کے محتاج ہیں اور امریکا کے بغیر یورپ اپنی آزادی کا سب سے بڑا ضامن کھو دیگا جو امریکی جوہری تحفظ (نیوکلیئر امبریلا) ہے۔
انہوں نے کہا کہ یورپی یونین یا یورپ کا خود اپنی حفاظت کا سوچنا صرف خواب ہے، یوکرین کیلئے 90ارب یورو قرضے کا کچھ حصہ ہتھیاروں پر خرچ کی اجازت دی جائے۔
نیٹو چیف کا کہنا تھا کہ امریکا ابھی بھی نیٹو کی اجتماعی حفاظت کیلئے مکمل عزم رکھتا ہے۔
انکا کہنا تھا کہ اگر یورپ واقعی امریکا کے بغیر اکیلا کھڑا ہونا چاہتا ہے تو دفاعی اخراجات کو 5 فیصد نہیں بلکہ 10فیصد تک بڑھانا ہوگا اور اپنی جوہری صلاحیت بھی بنانی پڑیگی جس پر اربوں یورو خرچ ہونگے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ امریکا کے بغیر یورپ اپنی سلامتی اور آزادی برقرار نہیں رکھ سکے گا۔
یاد رہے کہ نیٹو کے حالیہ اجلاس میں یورپی ممالک اور کینیڈا نے 2035 تک مجموعی قومی پیداوار کا 5 فیصد دفاع اور سکیورٹی پر خرچ کرنے پر اتفاق کیا تھا تاہم سپین معاہدہ سے الگ رہا، فرانس کی جانب سے بھی یورپ کی سٹریٹجک خودمختاری کے مطالبے کی حمایت میں اضافہ ہوا ہے۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حالیہ ہفتوں میں گرین لینڈ کو ضم کرنے کی دھمکیوں کے بعد نیٹو کے اندر کشیدگی بڑھ چکی ہے، گرین لینڈ، نیٹو کے رکن ملک ڈنمارک کا نیم خودمختار علاقہ ہے، امریکی صدر ٹرمپ نے گرین لینڈ کے یورپی حامیوں پر ٹیرف لگانے کا اعلان بھی کیا تھا تاہم بعد میں معدنیات سے مالا مال جزیرے گرین لینڈ پر ایک فریم ورک معاہدہ کے بعد دھمکیاں واپس لے لی گئیں جس میں مارک روٹے نے کردار ادا کیا تھا۔




