اتوار, جنوری 25, 2026
تازہ ترینچین کی معیشت مستحکم، طویل مدتی ترقی کے اہداف حاصل کر لے...

چین کی معیشت مستحکم، طویل مدتی ترقی کے اہداف حاصل کر لے گا، عہدیدار ایشیائی ترقیاتی بینک

چین نے پیر کے روز اعلان کیا کہ اندرونی اور بیرونی چیلنجز کے باوجود اس کی معیشت نے سال 2025 میں پانچ فیصد ترقی حاصل کر کے مقررہ سالانہ ہدف کامیابی سے حاصل کر لیا ہے۔

اسٹینڈ اپ (انگریزی): رین جون، نمائندہ شنہوا

چین نے سال 2025 کی پوری سالانہ اقتصادی کارکردگی جاری کر دی ہے، بین الاقوامی ادارے نتائج کیسے دیکھتے ہیں؟ مستقبل میں چین کی معیشت کے امکانات کیا ہیں اور یہ دنیا کے لیے کون سے نئے مواقع پیدا کرے گی؟ ہم نے ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کے  کنٹری ڈائریکٹر  برائے چین جناب آصف چیمہ سے ملاقات کر کے اس بارے میں تفصیل معلوم کی۔

ساؤنڈ بائٹ 1 (انگریزی): آصف چیمہ،  کنٹری ڈائریکٹر برائے چین، ایشیائی ترقیاتی بینک

’’میری رائے میں چین کی معیشت بہت اچھا کام کر رہی ہے۔ اس نے کافی مضبوط لچک دکھائی ہے۔ جیسا کہ آپ نے دیکھا اور یہ ایشیائی ترقیاتی بینک کی اقتصادی پیش گوئی میں بھی ظاہر ہوا۔ میرے خیال میں تمام چیلنجز کے باوجود معیشت نے انتہائی شاندار کارکردگی دکھائی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ برآمدات بہت مضبوط رہیں جبکہ ہائی ٹیک اور نئی توانائی کے شعبوں میں صنعتی سرگرمی بھی بہت فعال رہی۔‘‘

سال 2025 میں چین عالمی انوویشن انڈیکس کی ٹاپ ٹین فہرست میں شامل ہو گیا جبکہ تحقیق و ترقی پر اخراجات کا تناسب 2 اعشاریہ 8 فیصد تک پہنچ گیا جو آتنظیم برائے اقتصادی تعاون و ترقی (او ای سی ڈی) کے رکن ممالک کی اوسط سے بھی زیادہ ہے۔

ساؤنڈ بائٹ 2 (انگریزی): آصف چیمہ، کنٹری ڈائریکٹر برائے چین، ایشیائی ترقیاتی بینک

"میرے خیال میں جو ہم اس وقت دیکھ رہے ہیں اور جس چیز نے مجھے فی الحال متاثر کیا ہے وہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) میں چین کی کارکردگی ہے۔ چین اے آئی پر تحقیق اور اختراع کے قانونی تحفظ کے لئے قائدانہ کردار ادا کر رہا  ہے۔ یہ شعبہ نہ صرف اے آئی کے اندر بلکہ روایتی شعبوں میں اے آئی کے انضمام کی مہارت بھی تیار کر رہا ہے، جس سے صنعتی تبدیلی اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔ یہ طویل مدتی پالیسی تعاون، خیالات  اور اعلیٰ معیاری افرادی قوت کی مضبوطی اور تحقیق و ترقی کے نتیجے میں ممکن ہوا ہے جس کے ثمرات اب سامنے آ رہے ہیں۔”

مستقبل کے حوالے سے آصف چیمہ نے چینی معیشت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔

ساؤنڈ بائٹ 3 (انگریزی): آصف چیمہ، کنٹری ڈائریکٹر برائے چین، ایشیائی ترقیاتی بینک

"چین دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت ہے اور سب سے بڑی برآمدی منڈی بھی۔ براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں بھی اس کا اہم کردار ہے۔ یہ عالمی معیشت اور عالمی بحالی کے لئے بہت اہم ہے۔ میری رائے میں جیسا کہ میں پہلے ہی بتا چکا ہوں مستقبل کا منظرنامہ  نہایت مستحکم ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اصلاحات، کھلے پن، سماجی تحفظ کے اقدامات بڑھا کر اندرونی صارفیت کے فروغ اور نجی شعبے کی ترقی کے اقدامات جاری رہے تو  ہم پُراعتماد ہیں کہ چین طویل مدتی معاشی ترقی کے اہداف حاصل کر لے گا۔”

بیجنگ سے شنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ٹیکسٹ آن سکرین:

چین کی معیشت نے 2025 میں پانچ فیصد ترقی حاصل کی

اقتصادی لچک اور صنعتی کارکردگی نے چینی معیشت کو سہارا دیا

برآمدات، ہائی ٹیک اور نئی توانائی کے شعبے بہت مضبوط ہیں

چین نے عالمی اختراعی درجہ بندی میں ٹاپ ٹین کا مقام حاصل کیا

تحقیق و ترقی میں چین کا تناسب او ای سی ڈی اوسط سے زیادہ ہے

مصنوعی ذہانت کے شعبے میں چین نے عالمی قیادت برقرار رکھی

اے آئی کا انضمام صنعتی تبدیلی اور پیداواری صلاحیت کو بڑھا رہا ہے

اصلاحات، کھلے پن اور سماجی تحفظ سے معیشت مستحکم ہو رہی ہے

چینی حکومت طویل مدتی اقتصادی اہداف حاصل کرنے کے لیے پُرعزم ہے

ایشیائی بینک کے مطابق چین عالمی معیشت کی بحالی میں اہم کردار ادا کرے گا

شنہوا
+ posts
متعلقہ خبریں
- Advertisment -
Google search engine

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

error: Content is protected !!