واشنگٹن (شِنہوا) ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کی تیل کی تجارت اور بحری نیٹ ورکس پر پابندیوں میں توسیع کر دی۔ اس سلسلے میں ایران سے متعلق ایک نیا جنرل لائسنس جاری کیا گیا اور خصوصی طور پر نامزد افراد اور اداروں (ایس ڈی این) کی فہرست کو اپ ڈیٹ کیا گیا جس ایران کے پٹرولیم شعبے سے منسلک اداروں اور تیل بردار جہازوں کے نام شامل کئے گئے ہیں۔
امریکی محکمہ خزانہ کے دفتر برائے غیر ملکی اثاثہ جات کنٹرول (او ایف اے سی) کی جانب سے ایران سے متعلق جاری کردہ جنرل لائسنس ’ٹی‘ بعض ایسے افراد یا جہازوں کے ساتھ محدود حفاظتی اور ماحولیاتی نوعیت کے لین دین اور مال اتارنے کی اجازت دیتا ہے جن پر 23 جنوری 2026 کو پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
اسی دوران او ایف اے سی نے اپنی ایس ڈی این فہرست کو اپ ڈیٹ کرتے ہوئے ایران سے مبینہ تعلقات کے باعث متعدد جہاز رانی کمپنیوں اور 9 تیل بردار جہازوں کو شامل کیا۔ اس اقدام کے نتیجے میں ان کے امریکی اثاثے موثر طور پر منجمد ہونے اور امریکی شہریوں کو ان کے ساتھ کسی بھی قسم کے لین دین سے روک دیئے جانے کا امکان ہے۔
محکمہ خزانہ نے ایک پریس ریلیز میں کہا کہ او ایف اے سی 9 ایسے "شیڈو فلیٹ” جہازوں اور ان کے مالکان یا انتظامی کمپنیوں کو ہدف بنا رہا ہے جنہوں نے اجتماعی طور پر ایران کا لاکھوں ڈالر مالیت کا تیل اور پٹرولیم مصنوعات غیر ملکی منڈیوں تک پہنچائی ہیں۔
امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے ایکس پر کہا کہ جیسا کہ پہلے واضح کیا جا چکا ہے، محکمہ خزانہ ان کروڑوں ڈالرز کی نگرانی جاری رکھے گا جنہیں ایرانی حکومت نے مبینہ طور پر ہڑپ کیا ہے اور جنہیں وہ ایران سے باہر بینکوں میں منتقل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
یہ اقدام اس ماہ کے اوائل میں عائد کی گئی امریکی پابندیوں اور دیگر اقدامات کے بعد سامنے آیا ہے جنہیں جاری کشیدگی کے تناظر میں تہران کی مالی معاونت کے ذرائع منقطع کرنے کی وسیع تر امریکی کوشش کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔




