جمعہ, جنوری 23, 2026
پاکستانپارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس، اپوزیشن کے اعتراضات نظر انداز، دانش سکولز اتھارٹی...

پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس، اپوزیشن کے اعتراضات نظر انداز، دانش سکولز اتھارٹی بل منظور

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس نے دانش سکولز اتھارٹی بل کی منظوری دے دی۔

جمعہ کو پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیر صدارت منعقد ہوا۔

اجلاس میں وفاقی حکومت کی جانب سے دانش سکولز اتھارٹی بل 2025ء پیش کیا گیا۔

جے یو آئی کے سینیٹر کامران مرتضی نے بل پر صوبوں کو اعتماد میں لینے سے متعلق صدر مملکت کی ایڈوائس ایوان میں پڑھ کر سناتے ہوئے کہا کہ صدر نے بلز پر صوبوں سے مشاورت کا کہا تھا جسے نظرانداز کیا جا رہا ہے ،وفاق صوبوں کی حدود میں مداخلت کر رہا ہے۔

سپیکر نے اپوزیشن کے اعتراضات کو نظرانداز کرتے ہوئے منظوری کا عمل شروع کر دیا جس پر دونوں ایوانوں کے قائد حزب اختلاف محمود اچکزئی اور سینیٹر راجہ ناصر عباس اپنی نشستوں پر کھڑے ہوگئے، اپوزیشن اراکین نے نعرے بازی کرتے ہوئے سپیکر ڈائس کے سامنے احتجاج کیا۔

تاہم اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی کے باوجود پارلیمنٹ نے دانش سکولز اتھارٹی بل کی منظوری دے دی۔

بل کے تحت دانش سکولز کے نظم و نسق کیلئے دانش سکولز اتھارٹی قائم کی جائے گی، ایکٹ کا اطلاق اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری پر ہوگا، قانون کو فوری طور پر نافذ العمل قرار دیا گیا ہے جبکہ کم آمدن والے گھرانوں کے بچوں کو تعلیم کی فراہمی میں ترجیح دی جائے گی۔

ایکٹ میں دانش سکولز اتھارٹی کے قیام سے متعلق شقیں بھی واضح کی گئی ہیں جن کے مطابق اتھارٹی ایک باقاعدہ قانونی ادارہ ہوگی جسے معاہدے کرنے اور مقدمہ دائر کرنے کا اختیار حاصل ہوگا، اتھارٹی کو مستقل جانشینی اور سرکاری مہر بھی دی گئی ہے جبکہ ایکٹ کے تحت پہلے سے قائم دانش سکولز کو بھی اس اتھارٹی میں شامل کیا جائے گا۔

قانون کے مطابق دانش سکولز اتھارٹی کے چیئرمین وزیرِاعظم پاکستان ہوں گے جبکہ متعلقہ وفاقی وزیر کو اتھارٹی کا وائس چیئرمین مقرر کیا جائے گا، متعلقہ ڈویژن کے سیکرٹری اتھارٹی کے رکن ہوں گے، وفاقی وزارتِ خزانہ اور وزارتِ منصوبہ بندی کے سیکرٹریز کو بھی اتھارٹی میں شامل کیا گیا ہے، اسی طرح بی ایس 21 یا اس سے اوپر گریڈ کے افسران کو اتھارٹی کی رکنیت دی جائے گی۔

ایکٹ کے تحت دانش سکولز اتھارٹی میں 3 معروف ماہرینِ تعلیم کو رکن بنایا جائے گا، علاوہ ازیں نجی شعبے سے 2 ممتاز شخصیات بھی اتھارٹی کا حصہ ہوں گی، منیجنگ ڈائریکٹر دانش سکولز اتھارٹی کے سیکرٹری کے طور پر فرائض انجام دیں گے جبکہ چیئرمین کو سرکاری یا نجی ماہرین کو بطور رکن شامل کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔

ماہرین کی نامزدگی 3سال کیلئے ہوگی جس کی مدت میں توسیع کی جا سکے گی اور چیئرمین کی غیر موجودگی میں وائس چیئرمین، چیئرمین کے فرائض انجام دیں گے۔

قانون کے مطابق دانش سکولز اتھارٹی کیلئے ایگزیکٹو کمیٹی تشکیل دی جائے گی، اتھارٹی کو اپنے اجلاسوں کے طریقہ کار طے کرنے کا اختیار حاصل ہوگا، دانش سکولز کیلئے نصاب، کورسز اور مراکزِ امتیاز کی منظوری اتھارٹی دے گی جبکہ دانش سکولز اور مراکزِ امتیاز کے معائنے کا اختیار بھی اتھارٹی کو حاصل ہوگا، اس کے ساتھ ساتھ اتھارٹی کو سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں کے ساتھ تعاون کرنے کا اختیار بھی دیا گیا ہے۔

انٹرنیوز
+ posts
متعلقہ خبریں
- Advertisment -
Google search engine

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

error: Content is protected !!