زرعی ٹیکنالوجی کی عالمی کمپنی سینجینٹا گروپ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر جیف روی نے کہا ہے کہ چین تیزی سے نئی زرعی ٹیکنالوجیز اور ایسے ڈیجیٹل حل اپنا رہا ہے جو کسانوں، صارفین اور ماحول کے لئے یکساں طور پر فائدہ مند ثابت ہو رہے ہیں۔ یہ بات انہوں نے عالمی اقتصادی فورم کے سالانہ اجلاس 2026 کے موقع پر شِنہوا کو دئیے گئے ایک حالیہ انٹرویو میں کہی۔
ساؤنڈ بائٹ (انگریزی): جیف روی، چیف ایگزیکٹو آفیسر، سینجینٹا گروپ
"چین کے متعدد دوروں کے دوران میں نے وہاں غیر معمولی ترقی دیکھی ہے۔ ہر نیا پانچ سالہ منصوبہ ترقی کے نئے مواقع پیدا کرتا ہے۔ گزشتہ 15 سے 20 برسوں میں چین میں ٹیکنالوجی کے شعبےمیں ہونے والی پیش رفت واقعی حیران کن ہے۔
میں نے دیکھا کہ پیداوار میں مسلسل بہتری آ رہی ہے اور یہی پہلو کسانوں کے لئے سرفہرست اور سب سے زیادہ اہم ہے۔
میں نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ چین میں پیداوار کا معیار بھی مسلسل بہتر ہو رہا ہے۔
میں یہ بھی دیکھتا ہوں کہ چین میں نئے تکنیکی حل بہت تیزی سے اپنائے جا رہے ہیں۔ زراعت کی ڈیجیٹلائزیشن پر وسیع پیمانے پر کام ہو رہا ہے جس سے نہ صرف کسان اور صارف بہتر سہولیات حاصل کر رہے ہیں بلکہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس سے ماحول کے تحفظ میں بھی مدد مل رہی ہے۔
چین کی آبادی دنیا کی مجموعی آبادی کا تقریباً بیس فیصد ہے جبکہ قابلِ کاشت زمین کا حصہ دس فیصد سے بھی کم ہے۔ اس لئے چین کے لئے ضروری ہے کہ وہ کم رقبے پر زیادہ خوراک پیدا کرنے کے قابل ہو۔
مصنوعی ذہانت چین میں پیداوار کو زیادہ مؤثر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ یہ کسانوں کو بہتر فیصلے کرنے کے قابل بناتی ہے تاکہ وہ جدید ٹیکنالوجی اور درست زرعی طریقے اپنا کر زیادہ پیداوار حاصل کر سکیں۔ اس کے علاوہ یہ خراب شدہ زمین کی بحالی میں بھی مدد فراہم کر سکتی ہے جو نہ صرف چینی کسانوں بلکہ موجودہ اور آنے والی کئی نسلوں کے لئے ایک اہم پالیسی مسئلہ ہے۔”
ڈیووس، سوئٹزرلینڈ سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ




