جمعرات, جنوری 22, 2026
انٹرنیشنلایران احتجاج، 3117 افراد ہلاک، 469 سرکاری عمارتوں پر حملے، نذر آتش...

ایران احتجاج، 3117 افراد ہلاک، 469 سرکاری عمارتوں پر حملے، نذر آتش کیا گیا

غیر ملکی میڈیا نے ایران میں حالیہ بدامنی اورپرتشدد احتجاج کے دوران ہونیوالے نقصانات سے متعلق تفصیلی جائزہ شائع کیا ہے جس کے مطابق 3117 افراد ہلاک ہوئے ہیں، مظاہرین نے 469 سرکاری عمارتوں پر حملے کئے اور انہیں آگ لگا کر مکمل تباہ کیا، ملک کے آٹھ صوبوں میں 702 بینک برانچ کو منہدم یا نذرِ آتش کیا گیا جبکہ 419سپر مارکیٹس کو لوٹا گیا اور نذر آتش کیا گیا۔

ایران کے پولیس چیف بریگیڈیئر جنرل احمد رضا رادان نے کہا ہے کہ تمام صوبوں میں گرفتاریاں جاری ہیں اور مظاہرین کیخلاف کریک ڈائون تیزی سے جاری ہے، مظاہروں کے پہلے روز سے ہی فسادات، بغاوت، لوٹ مار، قتل میں ملوث افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

انہوں نے اعلان کیا کہ شرپسندوں کیخلاف کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک مظاہروں میں شامل آخری فرد کو بھی گرفتار نہ کر لیا جائے، بدامنی کے دوران پولیس کی 740 گاڑیوں جبکہ 305 عوامی ٹرانسپورٹ بشمول بسوں اور ایمبولینسوں کو شدید نوعیت کا نقصان پہنچایا گیا، مظاہروں میں عبادت گاہوں کو بھی نشانہ بنایا گیا اور 484مساجد کو نقصان پہنچا یا انہیں آگ لگا دی گئی، سینکڑوں دیگر گھروں اور گاڑیوں کوبھی نقصان پہنچنایا گیا۔

تہران کے میئر علی رضا ذکانی نے دارالحکومت میں ہونیوالے نقصانات کا تخمینہ 30کھرب ریال لگایا ہے۔

وزارتِ انٹیلی جنس نے جنوبی صوبہ فارس کے متعدد شہروں میں 162مبینہ فسادی رہنمائوں کو گرفتار کیا ہے جن پر سرکاری اور نجی املاک کو نقصان پہنچانے کا الزام ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق زیر حراست افراد نے شیراز میں 20بلدیاتی عمارتوں، 10فائر بریگیڈ گاڑیوں، 18 ایمبولینسوں، 10عوامی بسوں اور 47مذہبی مقامات کو نقصان پہنچایا، کارروائیوں کے دوران 47رائفلیں، 840گولیاں، پانچ پستول اور تین شکاری رائفلیں بھی برآمد کی گئی ہیں۔

ایرانی شہدا اور سابق فوجیوں کی فانڈیشن نے اعلان کیا ہے کہ ملک میں حالیہ بدامنی کے دوران ہلاک ہونیوالے افراد کی اکثریت کو شہید کا درجہ دیدیا گیا ہے، کل 3117 ہلاکتوں میں سے 2427افراد جن میں عام شہری اور سکیورٹی فورسز کے اہلکار شامل ہیں، دہشتگردانہ واقعات کے نتیجے میں شہید ہوئے۔

انٹرنیوز
+ posts
متعلقہ خبریں
- Advertisment -
Google search engine

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

error: Content is protected !!