وزیراعظم شہباز شریف نے آئندہ مالی سال کے بجٹ کی حکمت عملی سے متعلق ہدایات جاری کر دیں جس کے مطابق رواں مالی سال کے اختتام 30 جون تک کوئی منی بجٹ نہیں آئیگا، ٹیکس شارٹ فال ٹیکس اقدامات کی بجائے ٹیکس آمدن بڑھانے سے پورا کرنے کی کوششیں کی جائیگی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کو مزید ٹیکس نہ لگانے پر منایا جائیگا، 30جون تک ٹیکس کا شارٹ فال پورا کرنے کیلئے متبادل طریقے سے ٹیکس آمدن بڑھائی جائیگی، سمگلنگ کے خاتمے کیلئے کوششیں مزید تیز کی جائیں گی، ٹیکس چوروں اور نان فائلرز کیخلاف ایکشن جاری رہے گا، سوشل میڈیا، ایکس، فیس بک، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک پر نمود ونمائش کرنیوالے نان فائلرز کے خلاف خفیہ کارروائیاں جاری ہیں، ایف بی آر کا خصوصی ونگ سوشل میڈیا، ایکس، فیس بک، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک پر نمود ونمائش کرنے والے نان فائلرز کے ڈیٹا کا آڈٹ کر رہا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایات کے مطابق تنخواہ دار طبقے کیلئے ریلیف پر اقدامات شروع کئے جا رہے ہیں، آئندہ مالی سال کے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کیلئے ریلیف کی حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے، وزیراعظم نے صنعتوں کیلئے بھی ٹیکس کا ریٹ کم کرنے کی تجاویز تیار کرنے کی ہدایت کی ہے، اس حوالے سے آئی ایم ایف کو بھی منایا جائیگا، آئندہ بجٹ میں نئی انڈسٹریل پالیسی میں مینوفیکچرنگ سیکٹر کیلئے سپر ٹیکس کی شرح میں کمی کا فیصلہ کیا گیا ہے، سپر ٹیکس کے سٹرکچر میں ریفارمز کے تحت 4 برسوں میں مینوفیکچرنگ سیکٹر کیلئے سپر ٹیکس کی شرح کم ہو کر 5 فیصد مقرر کی جائیگی، پرائمری بیلنس سرپلس ہونے پر پانچویں سال سپر ٹیکس ختم کر دیا جائیگا، مینوفیکچرنگ سیکٹر کیلئے کم سے کم آمدن پر سپر ٹیکس کا تھریش ہولڈ 20کروڑ سے بڑھا کر 50کروڑ کرنے کی تجویز ہے، آئندہ بجٹ سے 10فیصد سپر ٹیکس عائد کرنے کیلئے تھریش ہولڈ 50کروڑ روپے سے بڑھا کر 1.5ارب روپے مقرر کرنے کی تجویز ہے۔




