پاکستان مخالف بالی ووڈ نیا مواد تخلیق کرنے کی صلاحیت کھو بیٹھا، پرانی فلموں اور گانوں پر ہی اکتفا کرنے پر اپنے ہی لوگ تنقید کرنے لگے، بالی ووڈ کے مشہور نغمہ نگار اور شاعر جاوید اختر نے پاکستان مخالف فلم بارڈر 2 بنانیوالوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب اصل گانے غیر معمولی کامیابی حاصل کر چکے ہوں تو انہیں نئے انداز میں پیش کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔
ایک انٹرویو میں جاوید اختر نے کہا کہ فلمسازوں کو یا تو نئے اور معیاری نغمات تخلیق کرنے چاہئیں یا یہ تسلیم کرلینا چاہیے کہ وہ ماضی جیسا معیار برقرار نہیں رکھ سکتے، اسی سوچ کے تحت انہوں نے بارڈر 2 کیلئے لکھنے سے انکار کیا۔
جاوید اختر نے کہا کہ پرانے گیتوں کو دوبارہ استعمال کرنا تخلیقی دیوالیہ پن کے مترادف ہے۔
جاوید اختر نے فلموں میں گانوں کو ری میک کرنے کے بڑھتے ہوئے رجحان پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ جو ماضی کا حصہ بن چکا ہے، اسے وہیں رہنے دینا چاہیے۔
ان کے مطابق نئی فلمیں بن رہی ہیں تو موسیقی بھی نئی ہونی چاہیے، نہ کہ ماضی کی کامیابیوں پر انحصار کیا جائے۔




