اسرائیلی فوج نے جنوبی غزہ میں فلسطینی خاندانوں کو اپنے گھروں اور خیمہ بستیوں سے نکلنے کا حکم دیدیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق اکتوبر میں ہونیوالی جنگ بندی کے بعد پہلی بار یہ احکامات خان یونس کے مشرقی علاقے بنی سہیلہ میں دئیے گئے جہاں درجنوں خاندان مقیم ہیں۔
مقامی رہائشیوں کے مطابق پیر کے روز الرقیب محلے میں خیموں اور جزوی طور پر تباہ گھروں میں رہنے والے خاندانوں پر اسرائیلی فوج کی جانب سے پمفلٹس گرائے گئے جس میں عربی، عبرانی اور انگریزی زبان میں لکھا تھا کہ علاقہ اسرائیلی فوج کے کنٹرول میں ہے اور فوری انخلا کیا جائے، رہائشیوں اور حماس کے ایک ذریعے کے مطابق جنگ بندی کے بعد یہ پہلی بار ہے کہ اس نوعیت کے انخلا کے احکامات جاری کئے گئے ہیں۔
جنگ سے قبل اسرائیلی فوج ایسے پمفلٹس ان علاقوں میں گراتی تھی جہاں بعد میں کارروائیاں یا بمباری کی جاتی تھی جس کے باعث خاندانوں کو بار بار نقل مکانی کرنا پڑتی تھی، جنگ بندی کے پہلے مرحلے میں بڑے پیمانے پر لڑائی رکی، اسرائیل نے غزہ کے کچھ علاقوں سے انخلا کیا اور حماس نے اسرائیلی یرغمالیوں کے بدلے فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا تاہم اگلے مراحل پر فریقین کے درمیان شدید اختلافات برقرار ہیں۔
بنی سہیلہ کے ایک رہائشی محمود کے مطابق انخلا کے احکامات سے کم از کم 70 خاندان متاثر ہوئے ہیں جو مغرب کی جانب منتقل ہو چکے ہیں، گزشتہ ماہ کے دوران اسرائیلی فوج نے کئی بار اپنی حدِ کنٹرول آگے بڑھائی ہے جس سے فلسطینی علاقوں میں مزید زمین شامل کی جا رہی ہے۔
حماس کے زیر انتظام غزہ حکومت کے میڈیا دفتر کے ڈائریکٹر اسماعیل الثوابتی نے بتایا کہ جنگ بندی کے بعد اسرائیلی فوج نے مشرقی خان یونس میں پانچ مرتبہ اپنے زیر کنٹرول علاقہ بڑھایا جس کے نتیجے میں کم از کم 9ہزار افراد بے گھر ہو چکے ہیں، ان کے مطابق تازہ احکامات سے تقریبا 3ہزار افراد متاثر ہوئے ہیں جس سے انسانی بحران اور پناہ گاہوں پر دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔




