اقوام متحدہ نے رواں سال کے دوران سوڈان میں 80لاکھ سے زائد افراد کو خوراک کی ضرورت کو ناگزیر قرار دیدیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بحران جنگ، نقل مکانی اور صحت و خوراک کی خدمات میں کمی کی وجہ سے مسلسل بڑھ رہا ہے، زمینی حالات 2026کے دوران صورتحال مزید بگڑنے کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کے دفتر برائے ہم آہنگیِ انسانی امور (اوچا) کے مطابق 2026میں 84لاکھ سے زائد افراد کو غذائی امداد کی ضرورت ہوگی جن میں پانچ سال سے کم عمر کے تقریباً 50لاکھ بچے شامل ہیں، اسکے علاوہ 34لاکھ سے زائد حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین صحت کی سہولیات کی کمی اور غذائی قلت کا شکار ہونگی۔
او سی ایچ اے کی رپورٹ میں پیشگوئی کی گئی ہے کہ سوڈان بھر میں 42لاکھ بچے اور خواتین شدید غذائی قلت کا شکار ہونگے جن میں پانچ سال سے کم عمر کے 8لاکھ 24ہزار سے زیادہ بچے انتہائی شدید غذائی قلت کا شکار ہو سکتے ہیں۔




