اقوام متحدہ (شِنہوا) چین کے ایک سفیر نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ جاپان کو "پرانے اور نقصان دہ عسکریت پسندانہ راستے” پر دوبارہ جانے سے روکنے کے لئے مشترکہ طور پر اقدامات کرے۔
اقوام متحدہ میں چین کے مستقل مشن کے ناظم الامور سن لی نے یہ مطالبہ انسانیت کے خلاف جرائم کی روک تھام اور سزا سے متعلق اقوام متحدہ کی مکمل اختیاراتی کانفرنس کی تیاری سے متعلق کمیٹی کے پہلے اجلاس سے خطاب کے دوران کی۔
سن لی نے کہا کہ انسانیت کے خلاف جرائم سنگین جرائم ہیں جو عالمی امن اور سلامتی کے لئے خطرہ بنتے ہیں۔ یہ معاملہ پہلی بار نورمبرگ میں بین الاقوامی فوجی ٹربیونل کے منشور اور مشرق بعید کے بین الاقوامی فوجی ٹربیونل کے منشور میں سامنے آیا جو انسانیت کے ضمیر کی عکاسی کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دوسری عالمی جنگ کے دوران جاپانی عسکریت پسندی نے چین، دیگر ایشیائی ممالک اور دنیا بھر کے عوام پر سنگین مظالم ڈھائے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ اس سال مشرق بعید کے بین الاقوامی فوجی ٹربیونل (’’ٹوکیو مقدمہ‘‘) کے کام کے آغاز کی 80 ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے۔
سن لی کے مطابق اس ٹربیونل نے جاپانی عسکریت پسندوں کی جانب سے چین اور دیگر ایشیائی ممالک کے خلاف منصوبہ بندی، تیاری اور جارحیت، نیز بحرالکاہل کی جنگ شروع کرنے جیسے جرائم کا منظم انداز میں فیصلہ کیا اور انہیں بے نقاب کیا۔ اس نے امن کے خلاف جرائم، جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم پر متعلقہ جنگی مجرموں کو سزائیں سنائیں۔
انہوں نے کہا کہ ٹوکیو ٹرائلز جاپان کی جارحیت کے جرائم کا ناقابل تردید تاریخی ثبوت ہیں، یہ بین الاقوامی فوجداری قانون کی ترقی میں پیشرفت کا سبب بنے اور اس سے جاپان کی توسیع پسندانہ پالیسیوں کی اصلاح کے لئے امن کی واضح صدا بلند ہوئی۔
سن لی نے زور دیا کہ عالمی برادری کو ٹوکیو ٹرائلز سمیت دوسری عالمی جنگ کے فاتحانہ نتائج کا مشترکہ طور پر تحفظ کرنا چاہیے، بین الاقوامی قانون پر مبنی عالمی نظام کو برقرار رکھنا چاہیے اور جاپان کو دوبارہ پرانے اور نقصان دہ عسکریت پسندانہ راستے پر جانے سے روکنا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پیچیدہ تبدیلیوں، بے چینی اور یکے بعد دیگرے علاقائی تنازعات سمیت موجودہ عالمی صورتحال کے پیش نظر انسانیت کے خلاف جرائم کی روک تھام اور ان کی سزا کو مضبوط بنانا نہایت بروقت اور انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔




