جنیوا (شِنہوا) عالمی اقتصادی فورم (ڈبلیو ای ایف) کے صدر بورگ برینڈے نے کہا ہے کہ رواں سال چین کی معاشی شرح نمو 5 فیصد سے زیادہ رہنے کا امکان ہے جو عالمی سطح پر درپیش مسائل کے باوجود مضبوط لچک کی عکاسی کرتی ہے اور عالمی معاشی ترقی میں بدستور سب سے زیادہ حصہ ڈالتی رہے گی۔
ڈبلیو ای ایف کے 2026 کے سالانہ اجلاس سے قبل شِنہوا کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں برینڈے نے کہا کہ چین نہ صرف روایتی شعبوں میں اپنے مضبوط مقام کو مستحکم کر رہا ہے بلکہ تحقیق، ترقی اور جدت میں بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری کے باعث نئے شعبوں میں بھی تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔
برینڈے نے چین کی معاشی صورتحال پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر چین معاشی اصلاحات کو جاری رکھتا ہے اور جدت و کاروبار میں سرمایہ کاری برقرار رکھتا ہے تو ملک میں ترقی اور خوشحالی کا سفر جاری رہے گا۔
انہوں نے کہا کہ چین پہلے ہی پانچویں صنعتی انقلاب کی جانب رخ کر چکا ہے جو ایک بڑی بنیادی تبدیلی کی نمائندگی کرتا ہے۔ برینڈے کے مطابق ٹیکنالوجیز آئندہ برسوں میں پیداواری صلاحیت اور معاشی ترقی کے لئے بڑے مواقع فراہم کریں گی اور اس عمل میں چین کا کردار اہم ہوگا۔
برینڈے نے چین کی عالمی قیادت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ چین نہ صرف ہوا سے بجلی پیدا کرکے ٹربائنز اور شمسی توانائی کے آلات کی تیاری میں رہنمائی کر رہا ہے بلکہ برقی گاڑیوں (ای وی) کی پیداوار میں بھی اس کا اہم کردار ہے جہاں بی وائی ڈی اور دیگر چینی ای وی برانڈز دنیا بھر میں مشہور ہو رہے ہیں۔
برینڈے نے کہا کہ عالمی نکتہ نظر سے جغرافیائی، سیاسی پیچیدگیوں اور محصولات کے اثرات کے باوجود عالمی معیشت حیرت انگیز حد تک مضبوط رہی ہے۔ اگرچہ تجارت ترقی کا ایک اہم محرک بنی ہوئی ہے لیکن مصنوعی ذہانت جیسی نئی ٹیکنالوجیز میں خاطر خواہ سرمایہ کاری ہو رہی ہے اور یہ عالمی ترقی کو آگے بڑھانے میں مدد دے رہی ہیں۔
برینڈے نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ہم سب سے زیادہ بڑے پیمانے پر جنگوں کی شدت کے بارے میں فکر مند ہیں۔ یہ عالمی ترقی کو ختم کر سکتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر اس طرح کی کشیدگیاں روکی جا سکیں تو 2026 میں عالمی معاشی ترقی 3 فیصد سے زیادہ ہو سکتی ہے۔
عالمی اقتصادی فورم کا سالانہ اجلاس سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں 19 جنوری کو شروع ہوگیا جو 23 جنوری تک جاری رہے گا اور اس کا موضوع "گفتگو کا جذبہ” ہے۔ اجلاس میں 130 سے زائد ممالک سے تقریباً 3ہزار افراد شرکت کر رہے ہیں جو تعاون کو مضبوط بنانے، ترقی کے نئے ذرائع تلاش کرنے اور انسانی سرمایہ کاری پر بات چیت کریں گے۔




