شام میں حکومت اور کرد قیادت میں کام کرنیوالی سیریئن ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کے درمیان شدید جھڑپوں کے بعد فوری جنگ بندی پر اتفاق ہو گیا ہے اور فریقین نے تمام محاذوں پر فائر بندی کا اعلان کردیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق شامی فوج نے شمالی شہر رقہ کی جانب تیز پیش قدمی کرتے ہوئے پہلے طبقا شہر کا کنٹرول سنبھالا جس کے بعد ایس ڈی ایف کیساتھ جنگ بندی طے پائی، معاہدہ کے تحت ایس ڈی ایف فورسز دریائے فرات کے مشرق میں واپس چلی جائیں گی جبکہ دیر الزور اور رقہ کے صوبے مکمل طور پر دمشق حکومت کے حوالے کر دئیے جائینگے۔
معاہدہ میں یہ بھی طے پایا ہے کہ دونوں صوبوں کے تمام سول اور انتظامی ادارے شامی حکومت کے کنٹرول میں آئیں گے اور سابق سرکاری ملازمین کو دوبارہ بحال کیا جائیگا۔
شامی حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ایس ڈی ایف کے حامیوں یا جنگجوئوں کیخلاف کارروائی نہیں کی جائیگی، جنگ بندی کے بعد شامی حکومت کو سرحدی گزرگاہوں کیساتھ ساتھ تیل اور گیس کے اہم ذخائر کا کنٹرول بھی مل گیا ہے، الحسکہ صوبے میں موجود سول اداروں کو بھی شامی ریاستی ڈھانچے میں ضم کیا جائیگا جبکہ صدر کی جانب سے گورنر کی تقرری کیلئے حکمنامہ جاری کیا جائیگا۔
معاہدے کے مطابق ایس ڈی ایف کی جانب سے تجویز کردہ فہرست کے تحت بعض سینئر فوجی، سکیورٹی اور سول عہدوں پر تقرریاں کی جائیں گی جبکہ کوبانی سے بھاری فوجی دستے واپس بلائے جائینگے، مقامی افراد پر مشتمل ایک سکیورٹی فورس اور وزارت داخلہ کے تحت مقامی پولیس قائم کی جائیگی۔
ادھر شامی فوج کی پیش قدمی پر رقہ کے شہریوں کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی اور پیشرفت کا جشن منایا، رپورٹس کے مطابق ایس ڈی ایف کے انخلا کے بعد شہر میں صورتحال نسبتاً پرسکون ہو گئی ہے۔




