پیر, جنوری 19, 2026
انٹرنیشنلفوجی آپریشن میں یوکرینی افواج کو بھاری جانی نقصان، روس کا دعویٰ

فوجی آپریشن میں یوکرینی افواج کو بھاری جانی نقصان، روس کا دعویٰ

روسی وزارتِ دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ یوکرین میں جاری خصوصی فوجی آپریشن میں گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران یوکرینی افواج کو مختلف محاذوں پر بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے اور مجموعی طور پر 1,210 یوکرینی اہلکار ہلاک یا زخمی ہوگئے ہیں جبکہ روسی فضائیہ، میزائل فورسز اور توپخانے نے ڈرون اسمبلی مراکز، توانائی اور نقل و حمل کے انفراسٹرکچر اور غیر ملکی جنگجوں کے ٹھکانوں کو بھی نشانہ بنایا ہے۔

وزارتِ دفاع کی جانب سے جاری بیان کے مطابق یوکرینی فوج کے 175اہلکار شمالی محاذ، 200مغربی محاذ، 135سے زائد جنوبی محاذ جبکہ 455سے زائد سنٹر محاذ پر ہلاک یا زخمی ہوئے، اسی طرح مشرقی محاذ پر 205اور دنیپر محاذ پر 40کے قریب اہلکار متاثر ہوئے، مجموعی طور پر 149 مقامات پر یوکرینی فوج کے عارضی ٹھکانوں اور اسلحہ و لاجسٹک سپورٹ مراکز پر حملے کیے گئے۔

دوسری جانب ڈونیٹسک عوامی جمہوریہ کی قیادت نے بتایا ہے کہ روسی فورسز شمالی ڈونباس میں اہم پیش قدمی کر رہی ہیں اور تاریخی وسٹریٹجک شہر سلاویانسک کے قریب پہنچ چکی ہیں۔

ڈینس پشیلین نے بتایا کہ زاکوتنوئے کے علاقے پر کنٹرول کے بعد روسی فوج اب سلاویانسک سے تقریباً 30کلومیٹر کے فاصلے پر ہے جبکہ گریشینو اور بیلیتسکوئے کے محاذوں پر شدید لڑائی جاری ہے، روسی فوج دوپروپولیے کی طرف بھی بڑھ رہی ہے جو یوکرینی فوج کیلئے ایک اہم لاجسٹک مرکز ہے جہاں سے شمالی محاذ کو گولہ بارود، ڈرون اور دیگر سامگری فراہم کی جاتی ہے۔

سلاویانسک جغرافیائی طور پر ڈونباس کے شمالی حصے میں واقع ہے اور یوکرینی دفاعی ڈھانچے کا ایک اہم زمینی نوڈ سمجھا جاتا ہے، یہ شہر کونستانتینووکا، کراماتورسک اور کراسنی لیمان کے درمیان سپلائی کوریڈور تشکیل دیتا ہے اور اگر روس یہاں مزید آگے بڑھنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو پورے شمالی ڈونباس میں یوکرینی کمانڈ کو شدید دبائو کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہیم، کونستانتینووکا کے اطراف بھی روسی پیشرفت کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں اور کلیبان بکسکائے واٹر ریزروائر کے قریب انکی فورسز نے کچھ کامیابیاں حاصل کی ہیں، یوکرین کی جانب سے ان رپورٹس کی باضابطہ تصدیق یا تردید تاحال سامنے نہیں آئی تاہم کیف کے حکام پہلے بھی تسلیم کر چکے ہیں کہ ڈونباس میں صورتحال پیچیدہ ہے اور محاذوں پر دبائو بڑھ رہا ہے۔

انٹرنیوز
+ posts
متعلقہ خبریں
- Advertisment -
Google search engine

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

error: Content is protected !!