اتوار, جنوری 18, 2026
بیلٹ اینڈ روڈ+سی پیکبی آر آئی اور آر سی ای پی کمبوڈیا کی ترقی کے...

بی آر آئی اور آر سی ای پی کمبوڈیا کی ترقی کے لئے زبردست مواقع پیش کر رہے ہیں، کمبوڈین ماہر

نوم پنہ (شِنہوا) ایک کمبوڈین ماہر نے کہا ہے کہ چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو، جامع علاقائی اقتصادی شراکت داری (آر سی ای پی) اور کمبوڈیا-چین آزاد تجارتی معاہدے (سی سی ایف ٹی اے) نے کمبوڈیا میں سماجی و اقتصادی ترقی اور غربت کے خاتمے کے لئے زبردست مواقع فراہم کئے ہیں۔

رائل اکیڈمی آف کمبوڈیا میں جغرافیائی سیاست اور پالیسی امور کے تجزیہ کار فائی ویسنا نے کہا ہے کہ بی آر آئی کے بڑے منصوبے جن میں سیہانوک ویلے خصوصی اقتصادی زون (ایس ایس ای زیڈ)، نوم پنہ-سیہانوک ویلے ایکسپریس وے اور سیم ریپ انگ کور بین الاقوامی ہوائی اڈہ شامل ہیں، نے کمبوڈیا کی معاشی و تجارتی ترقی کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ سیاحتی شعبے کی ترقی کو بھی فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

انہوں نے شِنہوا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایس ایس ای زیڈ نے کمبوڈیا کی معاشی ترقی کو مزید فروغ دینے میں مدد فراہم کی ہے اور ایکسپریس وے کی تعمیر سے سفری سہولت میسر ہوئی ہے، نقل وحمل کے اخراجات میں کمی، ایندھن کے اخراجات  کی بچت اور سفر کا دورانیہ کم ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بیلٹ اینڈ روڈ منصوبوں نے کمبوڈیا، چین اور آسیان کے رکن ممالک کے درمیان تعلقات کو فروغ دینے کے امکانات  پیدا کئے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ بیلٹ اینڈ روڈ منصوبوں نے دیگر ممالک کو بھی ان کی ترقی کے سفر میں سہولیات اور بہتری فراہم کی ہے۔

ویسنا نے کہا کہ بی آر آئی کے علاوہ آر سی ای پی اور سی سی ایف ٹی اے نے کمبوڈیا کی اقتصادی اور تجارتی ترقی میں زبردست جان ڈال دی ہے۔ انہوں نے  مزید بتایا کہ چین کمبوڈیا میں سرمایہ کاری کرنے والا سب سے بڑا  ملک اور سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔

شنہوا
+ posts
متعلقہ خبریں
- Advertisment -
Google search engine

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

error: Content is protected !!