گزشتہ ایک سال کے دوران عالمی ماحول میں پیچیدگیوں اور تیز رفتار تبدیلیوں کے باوجود آسیان اور چین نے معاشی، توانائی، ڈیجیٹل اور عوامی سطح پر روابط کے شعبوں میں مضبوط تعاون کا تسلسل برقرار رکھا ہے جو علاقائی امن، استحکام اور خوشحالی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار آسیان کے سیکرٹری جنرل کاؤ کم ہورن نے شنہوا کو دئیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں کیا۔
کاؤکے مطابق آسیان اور چین نے جامع اسٹریٹجک شراکت داری کے فریم ورک کے تحت تعاون کی مثبت رفتار کو برقرار رکھا ہے۔ دونوں فریق تعاون کے اقدامات پر عملدرآمد کو تسلسل سے جاری رکھے ہوئے ہیں اور انہوں نے سال 2026 سے 2030 تک جامع اسٹریٹجک شراکت داری کے نفاذ کے لائحۂ عمل کی بھی منظوری دے دی ہے جو آئندہ برسوں میں دوطرفہ تعاون کے لئے ایک رہنما فریم ورک کا کردار ادا کرے گا۔
ساؤنڈ بائٹ 1 (انگریزی): کاؤ کم ہورن، سیکرٹری جنرل، آسیان
"مجھے یقین ہے کہ گزشتہ برس دونوں فریقوں آسیان اور چین نے جامع اسٹریٹجک شراکت داری (سی ایس پی) کے فریم ورک کے تحت تعاون کی رفتار برقرار رکھی۔ اسی وجہ سے ہم موجودہ لائحۂ عمل کے تحت مختلف سرگرمیوں پر عمل درآمد جاری رکھ سکے اور ساتھ ہی ہم نے سال 2026 تا 2030 کا نیا پانچ سالہ لائحۂ عمل اختیار کیا۔ یہ ہمارے لئے نہایت اہم ہے کیونکہ یہی لائحۂ عمل آئندہ عرصے میں ہم دونوں فریقوں کو باہمی تعاون میں رہنمائی کرے گا۔”
انہوں نے کہا کہ آسیان چین آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) تھری پوائنٹ زیرو اپ گریڈ پروٹوکول پر کامیاب دستخط اس سلسلے کی ایک بڑی سنگِ میل پیش رفت ہے۔ یہ کوئی آسان کام نہیں تھا بلکہ دونوں فریقوں کی طویل محنت کے نتیجے میں یہ کامیابی ملی۔”
کاؤ نے اس بات کو اجاگر کیا کہ آسیان اورچین کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے کی ترقی یافتہ شکل دو طرفہ اقتصادی تعاون پر دور رس اثرات مرتب کرے گی۔
ساؤنڈ بائٹ 2 (انگریزی): کاؤ کم ہورن، سیکرٹری جنرل، آسیان
"میرے خیال میں اس سے دونوں فریقین کے درمیان اقتصادی تعاون پر مثبت اثرات پڑیں گے۔ ہم خاص طور پر ڈیجیٹل تجارت، ڈیجیٹل سروسز، ڈیجیٹل ادائیگیوں اور ای کامرس میں زیادہ تعاون کریں گے۔ اس کا مقصد ہمارے آزاد تجارتی معاہدے اور اقتصادی تعاون کو کاروباری افراد، کاروباری کمپنیوں اور اداروں کے لئے زیادہ متعلقہ بنانا ہے۔”
اب جبکہ دو طرفہ تعاون متعدد شعبوں تک وسیع ہو چکا ہے کاؤ کے مطابق آسیان چین تعلقات کو کوئی ایک شعبہ مکمل طور پر نہیں بیان کرتا تاہم ابھرتے ہوئے شعبے اہمیت میں مسلسل اضافہ کریں گے۔
ساؤنڈ بائٹ 3 (انگریزی): کاؤ کم ہورن، سیکرٹری جنرل، آسیان
"ایک لمبے عرصے کے لئے ہماری توجہ صرف ڈیجیٹل معیشت، مصنوعی ذہانت اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی ہو گی۔ یہی عوامل ہمارے بڑھتے ہوئے تعلقات کی وضاحت کریں گے۔”
سیاسی اور سلامتی کے امور سے متعلق کاؤ نے ایک بار پھر واضح کیا کہ آسیان نے چین کے ساتھ تعلقات اور پالیسی میں مستقل مزاجی برقرار رکھی ہے اور ’’ ون چائنہ پالیسی‘‘ پر آسیان کا موقف ہمیشہ یکساں رہا ہے۔
ساؤنڈ بائٹ 4 (انگریزی): کاؤ کم ہورن، سیکرٹری جنرل، آسیان
"ایک چین پالیسی آسیان کے 11 رکن ممالک کی خارجہ پالیسی کے مطابق بنائی گئی ہے۔ اس لئے ہمارا بھی یہی نقطہ نظر ہے۔ میں یقین سے کہتا ہوں کہ یہ موقف تبدیل نہیں ہوا۔ یہ ایک دائمی موقف رہا ہے۔”
مستقبل کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کاؤ نے کہا کہ اگلے سال آسیان اپنی 60 ویں سالگرہ منائے گا اور عوامی روابط ہی آسیان اور چین کے درمیان دیرپا تعلقات کی بنیاد ہیں۔
ساؤنڈ بائٹ 5 (انگریزی): کاؤ کم ہورن، سیکرٹری جنرل، آسیان
"لوگ ہی طویل مدت کے تعلقات کے محرک ہوں گے اور ان تعلقات کو تشکیل دیں گے۔ اسی لئے میرا خیال ہے کہ ہمیں آسیان ممالک اور چین کے درمیان قریبی عوامی روابط کو فروغ دینا اور ایک دوسرے کو بہتر سمجھنا چاہئے۔ میں کہوں گا کہ آسیان اور چین کے درمیان تعلقات، تعاون اور شراکت داری میں نمایاں ترقی ہوئی ہے۔”
جکارتہ سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹیکسٹ آن اسکرین:
2025 میں عالمی چیلنجز کے باوجود آسیان اور چین کے تعاون میں مضبوط تسلسل رہا
معاشی، توانائی، ڈیجیٹل اور عوامی روابط میں شراکت داری کو وسعت ملی
جامع اسٹریٹجک شراکت داری نے علاقائی امن اور استحکام کو تقویت دی
آسیان چین عملی منصوبہ 2026 تا 2030 منظور کر لیا گیا
نیا پانچ سالہ منصوبہ مستقبل کے تعاون کے لئے واضح سمت فراہم کرے گا
آزاد تجارتی معاہدے سے کاروباری برادری کو نئے مواقع میسر آئیں گے
ڈیجیٹل تجارت، ای کامرس اور ڈیجیٹل ادائیگیاں تعاون کے کلیدی شعبے ہیں
ڈیجیٹل معیشت اور مصنوعی ذہانت مستقبل کے تعلقات کا محور ہوں گی
آسیان نے’’ایک چین پالیسی‘‘ پر موقف کو مستقل اور اٹل قرار دیا
عوامی روابط آسیان اور چین کے دیرپا تعلقات کی مضبوط بنیاد ہیں
آسیان اور چین کی شراکت داری نے خطے میں خوشحالی کو فروغ دیا




