وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم علی پرویز ملک نے ریاض میں منعقد ہونیوالے فیوچر منرلز فورم میں پاکستان نمائندگی کرتے ہوئے اعلیٰ سطح کے مباحثوں میں شرکت کی اور دنیا کے سامنے پاکستان کے وسیع معدنی امکانات کو اجاگر کیا اور کہا کہ پاکستان معدنی وسائل کے حوالے سے بے پناہ صلاحیت رکھتا ہے اور عالمی شراکت داری کیلئے پرکشش مواقع فراہم کرتا ہے۔
اس موقع پر وفاقی وزیر نے سعودی وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان السعود سمیت متعدد اہم دوطرفہ ملاقاتیں بھی کیں جس میں توانائی کے شعبے میں دوطرفہ تعاون کے فروغ، پیٹرولیم سپلائی، قابل تجدید توانائی ،توانائی کی بچت اور سرمایہ کاری کے مواقع پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
علی پرویز ملک نے سعودی وزیر سرمایہ کاری انجینئر خالد الفالح سے بھی ملاقات کی جس میں پاکستان کے توانائی اور معدنی شعبوں میں سرمایہ کاری بڑھانے اور شراکت داریوں کو فروغ دینے پر گفتگو ہوئی، اسکے علاوہ انہوں نے انٹرنیشنل انرجی فورم کے سیکرٹری جنرل جاسم الشراوی میٹسو کارپوریشن کے سی ای او سامی تاکالوما، ڈیلٹا آئل کے چیئرمین بدر العیبان، انجینئر سعد الخالب اور سعودی ایکسپورٹ امپورٹ بینک کے سی ای او سے بھی ملاقاتیں کیں جن میں باہمی تعاون کے امکانات پر غور کیا گیا۔
وفاقی وزیر نے ایک اہم وزارتی پینل مباحثے میں بھی شرکت کی جس میں سعودی وزیر صنعت و معدنی وسائل بندر الخریف، مراکش کی وزیر توانائی منتقلی لیلی بن علی، موریتانیہ کے وزیر معدنیات تھیام تجانی چلی کی وزیر معدنیات اورورا ولیمز باسا اور کینیڈا کے وزارت توانائی کے پارلیمانی سیکرٹری کلاڈ گوئے سمیت دیگر عالمی رہنما ء بھی شریک تھے۔
مباحثے کے دوران علی پرویز ملک نے کہا کہ حکومت پاکستان معدنی شعبے میں ضابطہ جاتی رکاوٹیں کم کرنے قوانین کو آسان بنانے اور فریم ورک کو ہم آہنگ کرنے کیلئے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے، پینل میں پاکستان کو ایک ابھرتی ہوئی اور پرکشش معدنی منزل کے طور پر تسلیم کیا گیا اس موقع پر ایلینی جیوکوس نے کہا کہ پاکستان کے وسیع معدنی امکانات کے باعث دنیا پاکستان کے دروازے پر دستک دے رہی ہے۔
وفاقی وزیر نے عالمی سٹیک ہولڈرز کو پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم میں شرکت کی باضابطہ دعوت دی جو اپریل میں منعقد ہوگا اور سرمایہ کاری، شراکت داری اور پالیسی ڈائیلاگ کیلئے ایک اہم پلیٹ فارم ثابت ہوگا۔
علی پرویز ملک نے وزارتی گول میز کانفرنس میں بھی شرکت کی جس میں دنیا کے 100سے زائد ممالک کے نمائندے شریک ہوئے۔
فیورچر منرلز فورم میں پاکستان کی موجودگی کو مزید مضبوط بنانے کیلئے ” دی منرل مارول پاکستان” کے عنوان سے پاکستان پویلین بھی قائم کیا گیا جس میں نیشنل منرلز ڈیٹا سینٹرکے لائیو ڈیمونسٹریشن جدید ڈیجیٹل پلیٹ فارم، تھری ڈی جیولوجیکل ماڈلنگ ہائی ریزولوشن جی آئی ایس میپنگ اور معدنی پٹیوں کے رئیل ٹائم ڈیٹا کی نمائش کی گئی، پاکستان کی جانب سے معدنی وسائل پر 90منٹ کا خصوصی کنٹری شوکیس سیشن بھی منعقد کیا گیا جس میں بڑی تعداد میں شرکاء نے شرکت کی، اس موقع پر علی پرویز ملک نے پاکستان کی سٹریٹجک وژن پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سرمایہ کاری کیلئے مکمل طور پر تیار ہے اور حکومت سرمایہ کاروں کیساتھ کھڑی ہے، ریکوڈک محض ایک منصوبہ نہیں بلکہ ایک معیار ہے جو مستقبل کی کان کنی کیلئے نئی مثال قائم کریگا جبکہ آئندہ پاکستان منرلز انوسٹمنٹ فورم کا موضوع ” ریکوڈک سے آگے” ہوگا، اس سیشن میں سعودی نائب وزیر معدنی وسائل عبدالرحمن البلوشی نے بھی شرکت کی۔
فیورچر منرلز فورم میں پاکستان کی فعال شرکت نے معدنی وسائل کی ذمہ دارانہ ترقی، عالمی تعاون اور سرمایہ کاری کے ذریعے معاشی نمو کے عزم کو اجاگر کیا اور پاکستان کو مستقبل کی عالمی معدنی ضروریات کے ایک اہم شراکت دار کے طور پر پیش کیا۔




