ہفتہ, جنوری 17, 2026
انٹرنیشنلچین نے پائیدار امن کے لئے مکالمہ اور سفارت کاری ناگزیر قرار...

چین نے پائیدار امن کے لئے مکالمہ اور سفارت کاری ناگزیر قرار دے دیئے

اقوام متحدہ (شِنہوا) اقوام متحدہ میں چین کے مستقل مشن کے ناظم الامور سن لی نے کہا ہے کہ پائیدار امن طاقت کے اظہار یا یکطرفہ دباؤ کے ذریعے نہیں بلکہ مکالمے اور سفارت کاری کے ذریعے قائم ہوتا ہے۔

اقوام متحدہ کے چارٹر کی 80 ویں سالگرہ کے موقع پر ’’تنازعات کی روک تھام اور حل پر ازسرنو غور‘‘ کے عنوان سے منعقدہ اعلیٰ سطح کے مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے سن لی نے کہا کہ دنیا انتشار اور تبدیلی کے ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہے جہاں بین الاقوامی سلامتی کا منظرنامہ مزید پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے چارٹر میں درج اصولوں کی خلاف ورزیاں بڑھ رہی ہیں۔

سن لی نے کہا کہ میرے خیال میں اس تناظر میں آج کی یہ نشست ہمیں اقوام متحدہ کے قیام کے وقت طے کئے گئے مشترکہ عزائم پر دوبارہ غور کرنے اور عالمی امن و سلامتی کے مشترکہ مفاد میں مل کر آگے بڑھنے کے لئے ایک نہایت اہم پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے۔

اقوام متحدہ کے چارٹر کے مقاصد اور اصولوں کی پاسداری کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے سن لی نے کہا کہ یہ چارٹر بین الاقوامی تعلقات کو منظم کرنے والے بنیادی اصول طے کرتا ہے اور عالمی امن و استحکام کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔

چینی مندوب نے اس بات پر زور دیا کہ مکالمے اور مشاورت سے مضبوط وابستگی برقرار رکھنا نہایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملکوں کو ایک دوسرے کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کرنا چاہیے، ایک دوسرے کے جائز سلامتی کے خدشات کو سنجیدگی سے لینا چاہیے اور باہمی تزویراتی اعتماد کو مضبوط بنانا چاہیے۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ ثالثی، نیک نیتی کی کوششوں اور پیشگی سفارت کاری پر مزید توجہ دی جائے اور مکالمے و تعاون کے لئے سازگار ماحول پیدا کیا جائے۔

سن لی نے کہا کہ چین اقوام متحدہ کے چارٹر کی پاسداری، تنازعات کے پرامن حل کی حمایت اور عالمی امن و ترقی میں مزید کردار ادا کرنے کے لئے بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔

شنہوا
+ posts
متعلقہ خبریں
- Advertisment -
Google search engine

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

error: Content is protected !!