بیجنگ (شِنہوا) چین کی اشیاء کی مجموعی درآمدات 2025 کے دوران 184.8 کھرب یوآن (تقریباً 26.4 کھرب امریکی ڈالر) کی تاریخی سطح تک پہنچ گئیں جس نے مسلسل 17 ویں سال دنیا کی دوسری سب سے بڑی درآمدی منڈی کے طور پر ملک کی حیثیت کو مزید مستحکم کر دیا ہے۔
جنرل ایڈمنسٹریشن آف کسٹمز (جی اے سی) کے اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں 130 سے زائد ممالک اور خطوں سے چین کی درآمدات میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا جو کہ 2024 کے مقابلے میں 7 ممالک کا اضافہ ہے۔ اس طرح چین نے اپنی سپر لارج مارکیٹ کے فوائد کو عالمی صنعتی کھلاڑیوں کے لئے مواقع میں بدل دیا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ 1.4 ارب سے زیادہ آبادی کے ساتھ چین کی سپر لارج مارکیٹ اور بڑھتی ہوئی کھپت کی طاقت درآمدی طلب اور صلاحیت کو مزید وسعت دیتی رہے گی جس سے مزید ممالک اور خطوں کے لئے وسیع مواقع پیدا ہوں گے۔
جنرل ایڈمنسٹریشن آف کسٹمز (جی اے سی) کے نائب سربراہ وانگ جون نے حال ہی میں ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ چین کے غیر ملکی تجارتی شراکت داروں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ تازہ ترین بین الاقوامی ڈیٹا کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چین اب 160 سے زائد ممالک اور خطوں کا بڑا تجارتی شراکت دار بن چکا ہے جو کہ 2020 کے مقابلے میں 20 سے زیادہ کا اضافہ ہے۔
وانگ کے مطابق 2025 میں صرف چین کی اشیاء کی درآمدات عالمی مجموعی حجم کا تقریباً 10 فیصد رہیں۔
علاقائی بنیادوں پر اعداد و شمار کا جائزہ لیا جائے تو ایشیا، لاطینی امریکہ اور افریقہ سے چین کی درآمدات میں بالترتیب 3.9 فیصد، 4.9 فیصد اور 6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔




