روس سے تعلق رکھنے والے مارشل آرٹس کے شوقین افراد کا ایک گروپ چین کے شمالی صوبہ ہیبے کے شہر کانگ ژو میں واقع ایک مارشل آرٹس سکول میں پانچ روزہ تربیتی پروگرام میں حصہ لے رہا ہے۔
اس گروپ میں سب سے کم عمر طالبہ نو سالہ کیرا روگوچیوا بھی تربیت لے رہی ہیں۔
ساؤنڈ بائٹ 1 (روسی): کیرا روگوچیوا، مارشل آرٹس کی شوقین روسی بچی
"مجھے خاص طور پر چینی مارشل آرٹس بہت پسند ہیں۔مجھے امید ہے کہ موقع ملنے پر ان میں سے کئی فنون مزید سیکھ سکوں گی۔”
ایک سال قبل ماسکو کےمارشل آرٹس کلب کا دورہ کرتے ہوئے کیرا وہاں پیش کی جانے والی چینی کنگ فو پرفارمنس سے بے حد متاثر ہوئی تھی۔
اس جذبے کو آگے بڑھانے کے لئے اس نے اپنے والدین سے درخواست کی کہ اسے تربیتی کلاسز میں داخل کروا دیں۔
ساؤنڈ بائٹ 2 (روسی): ایکاترینا شیکینا، کیرا کی والدہ
"میں اور میرا شوہر دونوں چینی مارشل آرٹس کو پسند کرتے ہیں۔ جب ہمیں چین میں مارشل آرٹس سیکھنے کا موقع ملا تو ہمارا پورا خاندان بہت خوش ہوا اور ہم نے فوراً اندراج کروا لیا۔ ابتدا میں ہم فکرمند تھے کہ شاید وہ سختیاں اور مشکلات برداشت نہیں کر پائے گی لیکن آخرکار اس کی محنت اور عزم نے یہ ثابت کر دیا کہ وہ اس کام کے قابل ہے۔‘‘
یہ لگن اور جوش تربیت حاصل کرنے والے دیگر شرکاء میں بھی نظر آتا ہے جن میں 9 سال سے لے کر 50 سال سے زائدالعمر طلبہ بھی ہیں۔
ساؤنڈ بائٹ 3 (روسی): مارک گاوریلوف، مارشل آرٹس کا شوقین روسی شہری
"مجھے چینی مارشل آرٹس سے بہت محبت ہے۔ خاص طور پر پیگوا باکسنگ سے۔ میں پہلی بار پچھلے سال کانگ ژو آیا تھا۔ یہاں آنے سے پہلے میں صرف تکنیک پر توجہ دیتا تھا لیکن یہاں آ کر میں نے آخرکار مارشل آرٹس کی اصل اور بنیادی جڑوں کو سمجھ لیا۔ یہی وجہ ہے کہ میں دوبارہ واپس آیا ہوں تاکہ ماہر اساتذہ سے رہنمائی لے کر مارشل آرٹس کی باریکیوں کو واضح طور پر سمجھ سکوں۔”
ساؤنڈ بائٹ 4 (چینی): جِنگ شوئے کائی، چینی کنگ فو ماسٹر
"چینی مارشل آرٹس کے لئے ان روسی طلبہ کا جوش و جذبہ واقعی متاثر کن ہے۔ وہ نہ صرف اپنی تکنیکی تربیت میں بہت محنتی اور انتہائی محتاط ہیں بلکہ مارشل آرٹس کے پسِ پردہ قصوں، تاریخ اور ثقافتی اقدار کو سیکھنے میں بھی بے حد دلچسپی رکھتے ہیں۔”
چینی مارشل آرٹس کے معروف مرکز کے طور پر کانگ ژو نے روس، امریکہ، نیدرلینڈز اور دیگر کئی ممالک اور خطوں سے شوقین طلبہ کو اپنی جانب متوجہ کیا ہے۔
ساؤنڈ بائٹ 5 (چینی): سرگئی نیکولایف، ٹیم لیڈر، ماسکو مارشل آرٹس کلب
"میں کانگ ژو کی مارشل آرٹس کی بہت تعریف کرتا ہوں۔ میرے مارشل آرٹس کلب میں 500 سے زائد طلبہ ہیں۔ میرا ارادہ ہے کہ انہیں ہر سال یہاں مطالعاتی دورے پر لے کر آؤں تاکہ وہ اپنی مہارتیں بہتر بنا سکیں۔ مجھے امید ہے کہ مزید روسی طلبہ یہاں آئیں گے، مارشل آرٹس سے لطف اٹھائیں گے، اسے سیکھیں گے اور پھر اس کے ذریعے چین کو گہرائی سے سمجھیں گے۔”
کانگ ژو، چین سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ




