وفاقی حکومت اور خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کی جامع پالیسیوں سے پاکستان کے معاشی استحکام کی کوششیں رنگ لانے لگی ہیں اور تقریباً پانچ سال بعد مارکیٹ یِیلڈز سنگل ڈیجٹس تک آنے سے پالیسی ریٹ سے نیچے ٹریڈ کا آغاز ہوگیا۔
حکومت کی محتاط اور منظم قرض گیری حکمت عملی کے باعث حکومتی قرضوں کی لاگت میں نمایاں کمی ریکارڈ کی جا رہی ہے، مارکیٹ یِیلڈز میں مسلسل کمی سے نجی شعبے کیلئے قرض فراہمی کی گنجائش بڑھی اور مالیاتی دبا میں نمایاں نرمی آئی۔
وزارتِ خزانہ کی اپنی بہترین شرائط پر مضبوط قرض گیری سے فنڈنگ لاگت کم اور مارکیٹ استحکام میں اضافہ ہوا، 2021کے بعد پہلی بار مارکیٹ یِیلڈز پالیسی ریٹ سے نیچے آئیں، سرمایہ کاروں کے اعتماد میں نمایاں بہتری دیکھی گئی، یِیلڈ کرو کے تمام حصوں میں کمی، ٹی بل کٹ آف ریٹس میں 29سے 34بیس پوائنٹس کمی ریکارڈ کی گئی۔
پاکستان انوسٹمنٹ بانڈز (پی آئی بی)کی منظور شدہ مدتوں میں کٹ آف ریٹس 59سے 70بیس پوائنٹس کم ہو گئے۔
مارکیٹ پر غیر ضروری دبا سے اجتناب جاری رکھتے ہوئے وزارتِ خزانہ نظم و ضبط کیساتھ لاگت اور مدتوں کو بہتر بنا رہی ہے، پی آئی بی نیلامی میں 450ارب روپے کے ہدف کے مقابلے میں حکومت نے 488ارب روپے حاصل کیے، نیلامی میں 1,458ارب روپے کی بھاری بولیاں موصول ہوئیں جو مارکیٹ کے اعتماد کا مظہر ہے، یِیلڈز میں نرمی رواں سال حکومتی قرضوں کی سروسنگ لاگت کو مزید منظم اور مثر بنانے میں مدد دے گی۔
وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے فعال قرض مینجمنٹ کے تحت پاکستان کے رواں سال بھی قرض ادائیگی پر بچت کی پوزیشن میں ہونے کی خوشخبری سنا دی۔
یہ حکمتِ عملی لیکویڈیٹی محفوظ رکھ کر ایس ایم ایز، زراعت، ہاسنگ اور روزگار پیدا کرنے والے شعبوں کو تقویت دے رہی ہے۔
معیشت میں اہم پیشرفت نجی شعبہ کی قیادت میں پائیدار معاشی ترقی کی ضمانت ہے۔




