اقوام متحدہ (شِنہوا) اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا ہے کہ گروپ آف 77 اور چین کثیرالجہتی نظام کے مضبوط ستون ہیں۔
گروپ آف 77 اور چین کی چیئرمین شپ کی حوالگی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نئے سال میں دنیا نے جس سفر کا آغاز کیا ہے اس کو تنازعات، بڑھتی ہوئی عدم مساوات، قرضوں کے بوجھ میں اضافے اور اعتماد کی کمی جیسے مسائل کا سامنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ موسمیاتی افراتفری زندگیوں اور معاش کے ذرائع کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے اور سخت محنت سے حاصل ہونے والے ترقی کے فوائد کو پلٹ رہی ہے، ہم دیکھتے ہیں کہ ٹیکنالوجیز اس رفتار سے آگے بڑھ رہی ہیں کہ ہم یہ یقینی نہیں بنا پا رہے کہ یہ صرف چند خاص افراد کے لئے نہیں بلکہ سب لوگوں اور سب ممالک کے لئے کام کریں، اور ہم دیکھتے ہیں کہ بین الاقوامی تعاون دباؤ میں ہے حالانکہ عالمی چیلنجز بار بار ایک سچائی ثابت کرتے ہیں کہ کوئی بھی ملک انہیں اکیلا حل نہیں کر سکتا۔
انہوں نے کہا کہ یہی وہ وجوہات ہیں جن کی وجہ سے کثیر الجہتی نظام اہم ہے، انہوں نے حقیقی طور پر باہم منسلک اور کثیرالقطبی دنیا کے لئے تعاون کے نئے عزم کی اہمیت کو اجاگر کیا۔
انہوں نے کہا کہ اسی لئے گروپ آف 77 اور چین ناگزیر حیثیت رکھتے ہیں۔
انہوں نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ پائیدار ترقیاتی اہداف کے لئے عزم ظاہر کریں، ہنگامی موسمیاتی صورتحال کا مقابلہ اسی رفتار اور پیمانے سے کرے جس کی ضرورت ہے اور اس کا مرکز موسمیاتی انصاف ہونا چاہیے، اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ ڈیجیٹل دور عدم مساوات تیز کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ شمولیت کا محرک بنے اور اقوام متحدہ کو مزیدمستحکم کریں۔




