جمعرات, جنوری 15, 2026
تازہ ترینامریکی محنت کش طبقہ معاشی ’’کِل لائن‘‘ کے دباؤ تلے مشکلات کا...

امریکی محنت کش طبقہ معاشی ’’کِل لائن‘‘ کے دباؤ تلے مشکلات کا شکار

لاس اینجلس (شِنہوا) لاس اینجلس کے رہائشی ٹام ایس نے کہا کہ ’’وہ غلط نہیں کہہ رہے۔‘‘ شِنہوا سے گفتگو کرتے ہوئے وہ چینی سوشل میڈیا پر حال ہی میں وائرل ہونے والی ایک اصطلاح ’’کِل لائن‘‘  پر تبصرہ کر رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اصطلاح بالکل درست عکاسی کرتی ہے کہ کس طرح بہت سے امریکی معاشی طور پر زندگی اور موت کی لکیر پر کھڑے ہیں۔

ٹام نے کہا کہ ہمارے پاس کوئی مالی سہارا نہیں ہے۔ میں سالانہ تقریباً ایک لاکھ امریکی ڈالر کماتا ہوں، لیکن زندگی گزارنے کے اخراجات اتنے زیادہ ہیں کہ میرا خاندان صرف ایک تنخواہ رکنے کی دیر ہے کہ مکمل تباہی کا شکار ہو جائے اور بے گھر ہونے کی نوبت آ جائے۔ ہم نئی قسم کے محنت کش غریب ہیں۔ یہ صورتحال ناقابل یقین ہے۔

اصطلاح ’’کِل لائن‘‘ جسے بعض اوقات "موت کی لکیر” بھی کہا جاتا ہے، ویڈیو گیمز کی زبان سے نکلی ہے۔ اس کا مطلب وہ مقام ہے جہاں کسی کردار کی صحت اتنی کمزور ہو جائے کہ ایک معمولی ضرب بھی کھیل ختم کر دے۔

آن لائن مباحثوں میں یہ اصطلاح اب ان لوگوں کے لئے بطور استعارہ استعمال ہو رہی ہے جن کی مالی حالت اس قدر کمزور ہے کہ معمولی سا دھچکا بھی انہیں مکمل طور پر معاشی تباہی کے دہانے پر پہنچا سکتا ہے۔ یہ اصطلاح اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ امریکہ میں بڑی تعداد میں لوگ کسی ایک غیر متوقع واقعے، جیسے بیماری، ملازمت سے برطرفی، حادثہ یا اچانک آنے والے بل، کے نتیجے میں مالی طور پر ٹوٹ جانے کے خطرے سے دوچار ہیں۔

ایک امریکی بلاگر نے سان فرانسسکو میں سالانہ 4.5 لاکھ ڈالر کمانے کے باوجود گزر بسر کی جدوجہد بیان کی۔ یہ پوسٹ پہلے ‘ریڈ نوٹ’ پلیٹ فارم پر وائرل ہوئی، پھر چینی سوشل میڈیا ‘ویبو’ پر پہنچی، جہاں صارفین نے اسے "یو ایس کِل لائن” کے ہیش ٹیگز کے ساتھ ڈسکس کیا۔

یہ بحث امریکہ میں مالی عدم استحکام کے بارے میں بڑھتی ہوئی آگاہی کے دوران زور پکڑ رہی ہے، جہاں پی این سی بینک کی 2025 کی رپورٹ کے مطابق تقریباً 67 فیصد امریکی اپنی ایک تنخواہ سے دوسری تنخواہ تک بمشکل گزارا کرتے ہیں۔

فنانشل کالم نگار یو زی شن کا کہنا ہے کہ چینی صارفین اکثر امریکی معیشت کی اس کمزوری کا موازنہ اپنے تجربات سے کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ چین میں باقاعدہ سماجی تحفظ کے نظام کو بہتر بنانے کی کوششیں جاری ہیں لیکن رہائش کے کم اخراجات، سرکاری طبی سہولیات اور خاندان کے مضبوط تعاون کے نظام اکثر مکمل معاشی تباہی کے خلاف ایک ڈھال  فراہم کرتے ہیں۔

یو زی شن کے مطابق بہت سے چینی ’’کِل لائن‘‘ کو سمجھنے میں مشکل محسوس کرتے ہیں کیونکہ وہاں ریاست کی طرف سے بنیادی کم از کم آمدنی کی ضمانت دی جاتی ہے۔

ٹام نے افسوس کے ساتھ کہا کہ کم از کم آمدنی کی ضمانت کا آئیڈیا مجھے اس وقت بہت اچھا لگ رہا ہے۔

لاس اینجلس کے ایک ٹھیکیدار گریگوری پی نے شِنہوا کو بتایا کہ یہ بالکل غلط ہے کہ ہمارے ملک کو ارب پتی چلا رہے ہیں جنہیں یہ بھی معلوم نہیں اور نہ ہی وہ پرواہ کررہے ہیں کہ مجھ جیسے عام متوسط طبقے کے آدمی کے لئے دو وقت کی روٹی پوری کرنا کتنا مشکل ہے۔

ایک سروے کے مطابق 59 فیصد امریکی ایک ہزار ڈالر کے ہنگامی اخراجات بھی برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتے۔ ان اعداد و شمار نے چین میں شدید دلچسپی پیدا کی ہے جہاں طویل عرصے سے امریکیوں کو خوشحال اور امریکہ کو معاشی کامیابی کا ماڈل سمجھا جاتا رہا ہے۔

ایک اور شہری کیتھ کے نے کہا کہ امریکہ بہت کامیاب ہے لیکن کامیابی کا مطلب استحکام نہیں ہے۔

چینی سوشل میڈیا پر زیرِ بحث اصطلاح "کِل لائن” کا امریکہ میں ایک قدرے مماثل تصور موجود ہے جسے الائس تھریشولڈ  کہا جاتا ہے۔ الائس ایسٹ لمیٹڈ، انکم کنسٹرینڈ، امپلائیڈ کا مخفف ہے، جو ایسے گھرانوں کی نشاندہی کرتا ہے جو اگرچہ سرکاری امداد کے اہل ہونے کے لئے حد سے زیادہ کماتے ہیں، مگر ان کے پاس اتنی بچت نہیں ہوتی کہ کسی اچانک معاشی دھچکے یا بحران کا سامنا کر سکیں۔

شنہوا
+ posts
متعلقہ خبریں
- Advertisment -
Google search engine

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

error: Content is protected !!