بیجنگ (شِنہوا) چین کی بیرونی تجارت 2025 میں یوآن کے حساب سے گزشتہ سال کے مقابلے میں 3.8 فیصد بڑھ گئی۔
جنرل ایڈمنسٹریشن آف کسٹمز کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال ملک کی بیرونی تجارت کی مالیت 454.7 کھرب یوآن (تقریباً 64.8 کھرب امریکی ڈالر) تک پہنچ گئی، یہ 2017 سے چین کی بیرونی تجارت میں مسلسل نویں سال اضافہ ہے۔
2025 میں گزشتہ سال کے مقابلے میں برآمدات 6.1 فیصد بڑھ کر 269.9 کھرب یوآن تک پہنچ گئیں جبکہ درآمدات ریکارڈ سطح 184.8 کھرب یوآن تک پہنچ گئیں، جس میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 0.5 فیصد اضافہ ہوا۔ چین مسلسل 17 سال سے دنیا کی دوسری بڑی درآمدی مارکیٹ کا درجہ برقرار رکھے ہوئے ہے۔
14 ویں پانچ سالہ منصوبے (2021-2025) کے دوران چین کی مجموعی درآمد و برآمد کی مالیت 2 ہزار کھرب یوآن سے تجاوز کر گئی، جو 13 ویں پانچ سالہ منصوبے کے مقابلے میں 40 فیصد اضافہ ہے اور اس دوران اوسط سالانہ ترقی کی شرح 7.1 فیصد رہی۔
بدھ کو بیجنگ میں ایک حکومتی پریس کانفرنس میں جنرل ایڈمنسٹریشن آف کسٹمز کے نائب سربراہ وانگ جون نے کہا کہ چین کی بیرونی تجارتی کامیابیاں خاص طور پر عالمی اقتصادی مسائل کے باوجود واقعی قابل تعریف اور محنت سے حاصل کی گئی ہیں۔
وانگ نے چین کی غیر ملکی تجارت میں مسلسل نمو کی وجہ تین بڑے عوامل کو قرار دیا جن میں تجارت دوست ملکی پالیسیاں، وسیع گھریلو منڈی سے درآمدی طلب کا مسلسل ابھار اور بیرون ملک بدلتی ہوئی ضروریات کے مطابق خود کو مسلسل ڈھالنے والا ایک ترقی یافتہ صنعتی نظام شامل ہیں۔




