وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے آئندہ دو ہفتوں میں پانڈا بانڈز لانچ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ کچھ فرمز ملک سے جا رہی ہیں، زیادہ ٹیکس اور بلند توانائی قیمتیں کاروبار کیلئے سنجیدہ مسائل ہیں، جون تک تمام سرکاری ادائیگیاں ڈیجیٹل چینلز پر منتقل ہو جائینگی، ڈیوٹیز کو معقول بنانا اور کاروباری لاگت کم کرنا ہوگی،2047ء تک 3 ٹریلین ڈالر کی معیشت بننے کیلئے آبادی پر قابو پانا ہوگا، آبادی میں سالانہ 2.55 فیصد اضافے کے ساتھ ترقی ممکن نہیں ہے۔
اسلام آباد میں پاکستان پالیسی ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ معاشی اصلاحات سے ہی ترقی ممکن ہے، معیشت کی بہتری کیلئے اقدامات کر رہے ہیں، نجی شعبے کو آگے آ کر معیشت میں کردار ادا کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ٹیکس پالیسی کو ایف بی آر سے لے کر فنانس ڈویژن کو منتقل کیا تاکہ پالیسی سازی اور ٹیکس وصولی کے عمل کو الگ کیا جا سکے، ایف بی آر کا فوکس ٹیکس وصولی پر ہے، رواں برس جون تک تمام حکومتی ادائیگیاں ڈیجیٹل چینلز پر منتقل ہو جائیں گی، غیر بینکنگ افراد کو باقاعدہ مالیاتی نظام میں شامل کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ترسیلات زر پر مختلف لوگ مختلف رائے رکھتے ہیں، گزشتہ سال 38ارب ڈالر کے ترسیلات زر آئے جبکہ رواں سال 41ارب ڈالر ترسیلات زر آنے کی توقع ہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈیوٹیز کو معقول بنانا اور کاروباری لاگت کم کرنا ہوگی، 78سال میں پہلی بار ٹیرف اصلاحات کے ذریعے خام مال پر ڈیوٹیز کم کی جا رہی ہیں، ٹیرف میں کمی سے پاکستان کی برآمدات اور صنعتی پیداوار میں اضافہ ہوگا، موجودہ معاشی اصلاحات پاکستان کیلئے ایسٹ ایشیا مومنٹ ثابت ہوسکتی ہے، قرضوں کی ادائیگی خود کم نہیں ہوئی، ہم نے اقدامات کئے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ قرضوں پر سود کی ادائیگی حکومت کا سب سے بڑا خرچہ ہے، تاہم گزشتہ سال قرضوں پر سود کی مد میں 850 ارب روپے کی بچت کی گئی جب کہ رواں مالی سال بھی اس مد میں اخراجات میں بچت کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ یہ سچ ہے کہ کچھ کمپنیاں ملک سے جا رہی ہیں، ہمیں تسلیم کرنا چاہئے کہ ٹیکس یا توانائی کی قیمت زیادہ ہے تو یہ حقیقی مسائل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری میں مقامی سرمایہ کاروں نے شرکت کی، 24ادارے نجکاری کمیشن کے حوالے کئے گئے ہیں، سرکاری اداروں میں ہر سال تقریبا ایک ہزار ارب روپے ضائع ہو رہے ہیں، یوٹیلیٹی سٹورز، پی ڈبلیو ڈی اور پاسکو کو بند کیا گیا، ان اداروں کو دی گئی سبسڈی میں کرپشن ہو رہی تھی۔
وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان کے پاس دنیا کی تیسری سب سے بڑی فری لانسر فورس موجود ہے، نوجوانوں کو سسٹم اور پلیٹ فارم فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے کہا کہ 2047ء تک 3 ٹریلین ڈالر کی معیشت بننے کیلئے آبادی پر قابو پانا ہوگا کیونکہ آبادی میں سالانہ 2.55 فیصد اضافے کے ساتھ ترقی ممکن نہیں ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ نے اعلان کیا کہ حکومت آئندہ 2ہفتوں میں پانڈا بانڈز لانچ کرے گی، ایک سروے کے مطابق 73فیصد سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری کے حق میں ہیں، انہوں نے بتایا کہ تجارتی خسارہ بڑھا ہے تاہم کرنٹ اکانٹ ہدف کے اندر ہے۔
انہوں نے بتایا کہ موجودہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں بڑی صنعتوں کی کارکردگی مثبت رہی ہے۔ نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی بڑھ کر 1.1ٹریلین روپے تک پہنچ چکی ہے۔
محمد اورنگزیب کے مطابق پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں ایک لاکھ 35ہزار نئے سرمایہ کار شامل ہوئے ہیں۔
گزشتہ 18 ماہ کے دوران اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری میں 41 فیصد اضافہ ہوا ہے۔




