بدھ, جنوری 14, 2026
تازہ ترینچین نے سٹاک مارکیٹ پر موسمی اثرات کی پیشگوئی کا پہلا مصنوعی...

چین نے سٹاک مارکیٹ پر موسمی اثرات کی پیشگوئی کا پہلا مصنوعی ذہانت ماڈل متعارف کرا دیا

بیجنگ (شِنہوا) چین کی موسمیاتی انتظامیہ  (سی ایم اے) نے کہا ہے کہ چین نے اپنا پہلا  اے آئی ماڈل متعارف کرا دیا ہے جسے مالیاتی منڈیوں پر موسمی رجحانات کے اثرات کا جائزہ لینے کے لئے تیار کیا گیا ہے۔ یہ موسمیاتی خطرات سے آگاہی کے انتظام کے متعلق ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

 سائنس وٹیکنالوجی روزنامے کے مطابق سی ایم اے نے بتایا کہ شانگ جی یا سٹاک نامی ماڈل کو شنگھائی میں قائم فودان یونیورسٹی اور قومی موسمیاتی معلومات مرکز نے  مشترکہ طور پر تیار کیا ہے۔اس کا بنیادی کام اس بات کا اندازہ لگانا ہے کہ موسمیاتی عوامل کیسے اثاثوں کی قیمتوں کو متاثر کرتے ہیں۔ یہ ماڈل  سرمایہ کاری سے متعلق فیصلوں اور مالیاتی خطرات کے تجزیوں کے لئے ایک نیا وسیلہ فراہم کرتا ہے۔

اس ماڈل کی تیاری کی سربراہی کرنے والے اور مالیاتی ٹیکنالوجی  کے متعلق سی ایم اے کی کلیدی اوپن لیبارٹری کے ڈائریکٹر ژاؤ یان شیا نے کہا کہ یہ ماڈل، جو دوبارہ تجزیہ شدہ عالمی موسمیاتی اعداد وشمار اور سٹاک تجارت کے تاریخی اعداد وشمار کو بروئے کار لاتا ہے، چین کی اے-شیئر مارکیٹ  کے بیشتر سٹاکس  کے لئے مختصر مدت کےمنافع کی پیشگوئی کرسکتا ہے۔

تصدیقی جانچ سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ماڈل ان صنعتوں کی درست شناخت کرنے کے قابل ہے جو موسم کی صورتحال سے بہت زیادہ متاثر ہوتی ہیں، جیسے ہوا اور شمسی توانائی، روایتی پیٹروکیمیکلز، تعمیرات اور زراعت اور اس طرح یہ ماڈل بین الاقوامی معیار کے بھی  مطابق ہے۔

ژاؤ نے کہا کہ ماڈل کی پیشگوئیوں پر مبنی سرمایہ کاری حکمت عملیوں کی ماضی کی جانچ نے مختلف تاریخی ادوار کے دوران  پائیدار اور مستحکم مثبت منافع ظاہر کیا ہے، جو اس کی عملی صلاحیت کی نشاندہی  کرتی ہے۔

فودان یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ برائے مصنوعی ذہانت کی جدت اور انکیوبیشن کے پروفیسر اور ماڈل کی ٹیم کے رکن لی ہاؤ نے کہا یہ ماڈل مالی شعبے میں وسیع اطلاق کے امکانات رکھتا ہے۔

شنہوا
+ posts
متعلقہ خبریں
- Advertisment -
Google search engine

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

error: Content is protected !!