وفاقی آئینی عدالت نے بلوچستان فنانس ایکٹ 2020ء کے تحت ایکسائز ڈیوٹی میں اضافے کو آئینی قرار دے دیا۔
منگل کو جسٹس عامر فاروق اور جسٹس روزی خان بریچ پر مشتمل ڈویژن بینچ نے کیس کا 15 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کردیا۔
جسٹس عامر فاروق کی جانب سے جاری تحریری فیصلے میں اٹک سیمنٹ کی بلوچستان حکومت کیخلاف دائر پٹیشن مسترد اور دوہرا پہلو اصول کو تسلیم کرتے ہوئے قانون کو آئینی قرار دیا گیا ہے۔
تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ایک قانون کے وفاقی اور صوبائی دونوں پہلو ہو سکتے ہیں، اس لئے قانون درست ہے، معدنیات پر ایکسائز ڈیوٹی لیبر ویلفیئر کیلئے ہے، مقصد عوامی مفاد کا تحفظ ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ لیبر ویلفیئر صوبائی اختیار ہے، اس لئے صوبائی اسمبلی کو قانون سازی کا حق حاصل ہے، صوبائی قانون وفاقی اختیار کو ختم نہیں کرتا بلکہ آئینی ہم آہنگی میں ہے۔




