گزشتہ برسوں کے دوران چین میں صنعتی پیداوار کے شعبے نے مسلسل ترقی کی ہے اور خود کو عالمی صنعتی نیٹ ورکس کے ساتھ ہم آہنگ کر دیا ہے۔
یہ شعبہ اب مضبوط پیداواری صلاحیتیں فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ زیادہ مستحکم سپلائی چینز کو سہارا دے رہا ہے جس سے ابھرتی ہوئی صنعتوں میں عالمی شراکت داری کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔
کثیرالقومی (ملٹی نیشنل) کمپنیاں اب چین کو صرف پیداواری مرکز یا صارفین کی منڈی نہیں بلکہ تحقیق، تیز رفتار اطلاق اور ٹیکنالوجی کی جدت کے ایک اہم پلیٹ فارم کے طور پر بھی دیکھ رہی ہیں۔
سال 2025 کے اواخر میں جی ای ہیلتھ کیئر نے چین کے شمالی شہر تیانجن میں تحقیق و ترقی کاایک نیا مرکز قائم کرنے کا اعلان کیا۔
ساؤنڈ بائٹ 1 (انگریزی): کیلی لونڈی، صدر اور سی ای او، ایم آر، جی ای ہیلتھ کیئر
“ہم یہاں جدت کے ذریعے اپنی تازہ ترین مصنوعات متعارف کرانے کے منتظر ہیں۔ ہماری انجینئرنگ ٹیم نئی تکنیکیں، طریقہ کار اور طبی جدتیں تیار کر رہی ہے اور پھر مشینری بھی یہیں تیار کی جاتی ہے۔”
میونخ میں منعقد ہونے والے سال 2025 کے ’انٹرنیشنل موٹر شو جرمنی‘ میں بی ایم ڈبلیو اے جی کے بورڈ آف مینجمنٹ کے چیئرمین اولیور زِپسے نے بی ایم ڈبلیو کی عالمی حکمت عملی میں چین کی جدت کی اہمیت پر زور دیا۔
ساؤنڈ بائٹ 2 (انگریزی): اولیور زِپسے، چیئرمین بورڈ آف مینجمنٹ، بی ایم ڈبلیو اے جی
“مجھے چین کی منڈی بہت پسند ہے۔ یہ صرف ہماری سب سے بڑی واحد منڈی ہی نہیں بلکہ اس کے پاس ایک اختراعی قوت بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری تحقیق و ترقی کی سب سے بڑی سرگرمیاں چین میں ہوتی ہیں۔ میرا خیال ہے کہ ہم یہ پیغام بھی دے رہے ہیں کہ عالمی تعاون کرہ ارض کے مستقبل کے لئے ناگزیر ہے اور اسی بنیاد پر ہم دنیا بھر میں شراکت داروں کے ساتھ مستقبل کی شراکت داریاں قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن فی الحال سب سے بڑی جدت جو ہم دیکھ رہے ہیں وہ چین سے سامنے آ رہی ہے۔ اور اگر ہم اپنی طاقتوں کو یکجا کر لیں تو یہی مستقبل کا راستہ ہے۔”
چین کا صنعتی پیداوار کا شعبہ سال 2024 تک مسلسل پندرہ سال سے دنیا میں سرفہرست رہا۔ یہ ملکی سطح پر مستحکم ترقی کے ساتھ ساتھ غیر ملکی سرمایہ کاری کو بھی اپنی جانب متوجہ کر رہا ہے۔
سال 2025 کے پہلے گیارہ ماہ میں چین نے مجموعی طور پر 693.18 ارب یوآن (تقریباً 98.25 ارب امریکی ڈالر) کی حقیقی غیر ملکی براہِ راست سرمایہ کاری حاصل کی۔ اس میں سے صرف صنعتی پیداوار کے شعبے کو 171.72 ارب یوآن (تقریباً 24.4 ارب امریکی ڈالر) ملے جو مجموعی سرمایہ کاری کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ ہے۔
بیجنگ سےشِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندگان کی رپورٹ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹیکسٹ آن سکرین:
چین نےصنعتی پیداوار کے شعبے نے گزشتہ برسوں کے دوران مسلسل ترقی کی
یہ اب عالمی صنعتی نیٹ ورکس سے ہم آہنگ اور سپلائی چینز میں معاون ہے
کثیر القومی کمپنیاں چین کو تحقیق اور ٹیکنالوجی کے پلیٹ فارم کے طور پر دیکھتی ہیں
ابھرتی صنعتوں میں عالمی شراکت داری کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں
جی ای ہیلتھ کیئر نے تیانجن میں تحقیق و ترقی کا نیا مرکز قائم کیا
مرکز میں انجینئرنگ، کلینیکل جدت اور جدید طبی ہارڈویئر کی تیاری پر کام ہوتاہے
بی ایم ڈبلیو کے چیئرمین کے مطابق چین کی جدت عالمی حکمت عملی میں اہم ہے
مستقبل کی عالمی شراکت داریوں کی مضبوطی کے لئے عالمی تعاون ناگزیر ہے
چین کا صنعتی پیداوار کا شعبہ پندرہ برس سے دنیا میں سرفہرست ہے
سال 2025 میں صنعتی شعبے نے غیر ملکی سرمایہ کاری کا چوتھائی حصہ حاصل کیا




