منگل, جنوری 13, 2026
پاکستانلوگ زیادہ ٹیکس ہونے کی وجہ سے ملک چھوڑ رہے ہیں، وکیل

لوگ زیادہ ٹیکس ہونے کی وجہ سے ملک چھوڑ رہے ہیں، وکیل

وفاقی آئینی عدالت میں سپر ٹیکس کیس کی سماعت کے دوران کمپنیوں کے وکیل نے کہا ہے کہ لوگ زیادہ ٹیکس ہونے کی وجہ سے ملک چھوڑ رہے ہیں، سپر ٹیکس کیسز کی سماعت چیف جسٹس امین الدین کی سربراہی میں 3رکنی بنچ نے کی، مختلف ایکسپورٹرز کمپنیوں کے وکیل راشد انور اور تمباکو کمپنیوں کے وکیل اعجاز احمد نے اپنے دلائل مکمل کر لئے۔

دوران سماعت وکیل راشد انور نے موقف اختیار کیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلہ دیا تھا 15 فیصد سے کم اور 55 فیصد سے زیادہ ٹیکس وصول نہیں کیا جا سکتا جبکہ اسوقت 55 فیصد سے زائد ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے، افسوس کی بات ہے کہ لوگ ٹیکس کے زیادہ ہونے کی وجہ سے ملک چھوڑ کر جا رہے ہیں، بزنس مین دبئی جیسے شہروں میں اپنا کاروبار منتقل کر رہے ہیں جہاں ٹیکس کی شرح کم ہے، بزنس مین کو نفع چاہئے ہوتا ہے لیکن یہاں نقصان ہو رہا ہے، اس وقت بزنس مین 61 فیصد ٹیکس دے رہا ہے۔

تمباکو کمپنیوں کے وکیل اعجاز احمد نے کہا کہ اگر سگریٹ کی ایک ڈبی 130 روپے میں فروخت ہو رہی ہے تو اس میں سے 98روپے ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے جبکہ ایک پیکٹ 48روپے میں فروخت ہونے پر 40روپے ٹیکس لیا جاتا ہے۔

اس پر ایف بی آر کی وکیل عاصمہ حامد نے کہا کہ انکی جانب سے جو اعداد و شمار بتائے جا رہے ہیں وہ ایف بی آر کے ریکارڈ پر موجود نہیں ہیں۔

اعجاز احمد نے کہا کہ حکومت نے تمام سب سیکٹرز پر ٹیکس نہیں لگایا بلکہ کچھ پر عائد کیا گیا ہے، اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ یہ حکومت کی صوابدید ہے کہ وہ کسی سیکٹر کو ٹیکس میں شامل کرے یا نکال دے جس سے وکیل اعجاز احمد نے اتفاق کیا اور موقف اپنایا کہ ٹیکس کی کلاسیفکیشن کاروبار کے بجائے انکم پر ہونی چاہئے تاہم چیف جسٹس نے کہا کہ اگر صرف انکم پر ٹیکس لگایا جائے تو پھر کسی کی کلاسیفیکیشن ممکن نہیں رہے گی۔

وکیل اعجاز احمد نے کہا کہ سگریٹ باہر سے سمگل ہو کر بھی آتا ہے جو پاکستان میں بننے والے سگریٹ کے مقابلے میں سستا ہوتا ہے اس پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ جو سگریٹ باہر سے امپورٹ ہو کر آتا ہوگا اسکا پتا تو چل جاتا ہوگا، وکیل نے کہا کہ پاکستان میں بننے والے سگریٹ کے پیکٹ پر صحت سے متعلق اشتہار ہوتا ہے، چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کیا پاکستان میں قانونی طور پر سگریٹ امپورٹ کرنے کی اجازت ہے، وکیل نے جواب دیا اجازت تو ہے مگر انکے علم کے مطابق ابھی تک سگریٹ امپورٹ نہیں ہوئی، اس موقع پر چیف جسٹس امین الدین نے ریمارکس دئیے ہمارے سوالات سے آپکو اندازہ ہو گیا ہوگا کہ ہم میں سے کوئی سگریٹ نوشی نہیں کرتا۔

عدالت نے سپر ٹیکس کیسز کی سماعت کل تک کیلئے ملتوی کر دی۔

انٹرنیوز
+ posts
متعلقہ خبریں
- Advertisment -
Google search engine

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

error: Content is protected !!