ایران نے کہا ہے کہ ہم جنگ اور مذاکرات دونوں کیلئے تیار ہیں، ہم نے غیر ملکی عناصر کی مداخلت سے بھڑکائے گئے حالات پر قابو پالیا ہے اور پرامن مظاہرین کے تحفظ کو یقینی بنایا جائیگا۔
تہران میں غیر ملکی سفارتکاروں سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ عباس عراقچی کہا ملک میں جاری احتجاج ابتداء میں پرامن تھا اور حکومت نے مظاہرین کے جائز مطالبات سن کر اقتصادی اصلاحات بھی شروع کیں، مظاہرے دسمبر کے آخر تک کمزور تھے لیکن جنوری کے آغاز میں احتجاج نے ایک نیا روپ اختیار کیا اور نئے افراد اور دہشتگرد عناصر کی مداخلت سے یہ مظاہرے پرتشدد اور خونریز بن گئے۔
عراقچی نے کہا کہ بعض مظاہرین کو ہتھیار دئیے گئے، انہوں نے نہ صرف سکیورٹی اہلکاروں بلکہ عام شہریوں پر بھی فائرنگ کی جس کا مقصد جانی نقصان بڑھا کر امریکا کو مداخلت کا بہانہ فراہم کرنا تھا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیوں نے مظاہروں میں تشدد کو ہوا دی اور بعض عناصر کو اس پر اکسانے کا سبب بنی، داعش اور دیگر دہشتگرد عناصر نے سکیورٹی اہلکاروں کو قتل کیا، بعض کے گلے کاٹ دئیے اور کچھ کو زندہ جلا دیا، سرکاری اور نجی املاک کو بھی نقصان پہنچایا گیا جس میں دکانیں، ہسپتال، بسیں حتیٰ کہ 350مساجد شامل ہیں، زخمی افراد کو بھی ہدف بنایا گیا اور بعض افراد کو فائرنگ کرکے ہلاک کر دیا گیا، کچھ افراد کو بڑی رقوم دیکر پولیس سٹیشنوں اور دیگر اہداف پر حملوں کیلئے بھرتی کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے سکیورٹی فورسز تعینات کیں اور دہشتگرد عناصر کیخلاف کارروائی کرتے ہوئے انہیں گرفتار کر لیا جن کے قبضے سے ہتھیار بھی برآمد ہوئے، جلد گرفتار افراد کے اعترافی بیانات اور شواہد عوام کے سامنے پیش کئے جائینگے، تمام ملوث افراد کیخلاف سخت کارروائی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ مظاہروں میں شامل 70فیصد افراد کو غیر ملکی عناصر نے بھڑکایا جبکہ 30فیصد مظاہرین پرامن تھے جن کے مطالبات جائز تھے، حکومت ان پرامن مظاہرین کے مطالبات کو تسلیم کرتی ہے، ان کیلئے قانونی اور عدالتی راستے کھلے رکھے گئے ہیں، ایران کی سکیورٹی اور استحکام کو یقینی بنایا گیا ہے اور جلد انٹرنیٹ سروس بھی بحال ہو جائیگی تاکہ سرکاری ادارے اور سفارتخانے معمول کے مطابق کام کر سکیں۔
وزیر خارجہ نے سفارتکاروں اور عوام کا صبر و استقامت کیلئے شکریہ ادا کیا اور کہا کہ حکومت نے حالات پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔




