پیر, جنوری 12, 2026
تازہ ترینکھیلوں کو سیاست زدہ کرنے کی بھارتی روش سے بنگلا دیش سپورٹس...

کھیلوں کو سیاست زدہ کرنے کی بھارتی روش سے بنگلا دیش سپورٹس انڈسٹری کو نقصان

بھارت کھیلوں کو سیاست زدہ کرنے کی اپنی روش سے بنگلا دیش کی سپورٹس انڈسٹری کو بھی نقصان پہنچانے لگا۔

غیر ملکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق بھارت کیساتھ سیاسی تنائو کے باعث بنگلہ دیش کے کئی سرفہرست کرکٹرز کی سپانسرشپ ڈیلز خطرے میں پڑ گئی ہیں، کرکٹ سامان بنانے والی معروف بھارتی کمپنی ایس جی نے بنگلہ دیشی کھلاڑیوں کیساتھ سپانسرشپ معاہدوں کی تجدید عارضی طور پر روک دی ہے، ایس جی بنگلہ دیش کے موجودہ کپتان لٹن داس سمیت کئی بڑے بیٹرز کو سپانسر کرتی ہے تاہم دونوں ممالک کے تعلقات خراب ہونے کے بعد کمپنی نے نئے معاہدوں پر بات چیت روک دی ہے۔

ذرائع کے مطابق فیصلہ موجودہ سیاسی کے باعث کیا گیا ہے، ایک اور بھارتی سپورٹس اپیرل برانڈ سارین سپورٹس نے بھی بنگلہ دیش میں اپنی مصنوعات تیار کروانے کا فیصلہ منسوخ کر دیا ہے، کمپنی نے مبینہ طور پر گزشتہ سال ہی بنگلہ دیش کے چار سے پانچ نمایاں کرکٹرز کے سپانسرشپ معاہدے ختم کر دئیے تھے۔

ذرائع کا کہنا ہے اگرچہ مستقبل میں حالات بہتر ہونے پر یہ فیصلے تبدیل ہو سکتے ہیں تاہم موجودہ صورتحال میں بنگلہ دیشی سپورٹس انڈسٹری کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے، معاملہ صرف سپانسرشپ معاہدوں تک محدود نہیں، سیاسی عدم استحکام اور غیر یقینی حالات کے باعث ایس جی نے گزشتہ چھ ماہ سے بنگلہ دیش میں کرکٹ سامان کی ترسیل مکمل طور پر روک رکھی ہے، بنگلہ دیش کی فیکٹریوں میں تیار ہونیوالا سپورٹس اپیرل جو پہلے بھارت کی مختلف کمپنیوں کو فراہم کیا جاتا تھا، سپلائی چین بھی تقریباً ایک سال سے متاثر ہے جس سے مقامی صنعت اور مزدوروں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر بھارت کھیل کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرتا رہا اور دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری نہ آئی تو بنگلہ دیش کی سپورٹس انڈسٹری کو طویل المدتی مالی مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

انٹرنیوز
+ posts
متعلقہ خبریں
- Advertisment -
Google search engine

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

error: Content is protected !!