ژینگ ژو (شِنہوا) چینی اور ازبک ماہرین آثار قدیمہ نے ازبکستان کے قدیم شہر کووا میں شہر کی ایسی دیواریں دریافت کی ہیں جو تیسری صدی قبل مسیح سے 10 ویں صدی عیسوی کے درمیان تعمیر اور مرمت کی گئی تھیں۔ یہ دریافت شاہراہ ریشم کی اس اہم بستی کی تاریخ پر نئی روشنی ڈالتی ہے۔
ازبکستان کی مشرقی وادی فرغانہ میں واقع کووا کا یہ مقام، جو اب تقریباً ایک لاکھ 10 ہزار مربع میٹر پر پھیلا ہوا ہے، قدیم شاہراہ ریشم کا ایک انتہائی اہم مرکز ہوا کرتا تھا۔ چین کے ساتھ اس کا تاریخی تعلق 2 ہزار سال سے زیادہ پرانا ہے کیونکہ مانا جاتا ہے کہ یہ علاقہ قدیم ریاست دایوان کا حصہ تھا جس کا ذکر ہان خاندان (202 قبل مسیح تا 220 عیسوی) کے دور میں چینی سفیر ژانگ چھیان نے اپنی تحریروں میں کیا تھا۔

ازبکستان کی مشرقی فرغانہ وادی میں کووا کے مقام پر ماہرین آثار قدیمہ کو کام کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ (شِنہوا)
چین کے وسطی صوبے ہینان کے لویانگ انسٹی ٹیوٹ آف آرکیالوجی اور ازبکستان کی فرغانہ اسٹیٹ یونیورسٹی کی ایک مشترکہ ٹیم 2023 سے کووا کے مقام پر فیلڈ ورک کر رہی ہے۔
چینی ٹیم کے سربراہ لیو بن نے بتایا کہ کھدائی کے دوران ایک محل، شہر کے دروازوں، دیواروں، مکانات کی بنیادوں، سڑکوں اور ورکشاپس کے آثار کی نشاندہی ہوئی ہے۔ سال 2025 میں ٹیم کی توجہ خاص طور پر شمالی دروازے اور اس سے متصل خندق والے علاقے کی کھدائی پر مرکوز رہی۔

ازبکستان کی مشرقی فرغانہ وادی میں کووا کے مقام کا منظر۔ (شِنہوا)
ٹیم نے اس بات کا تعین کیا ہے کہ ان دیواروں کی ترتیب اور استعمال کے مقصد میں وقت کے ساتھ ساتھ کئی تبدیلیاں کی گئی تھیں۔ تعمیراتی مواد کے طور پر کچی مٹی کے بلاکس اور مٹی کی اینٹوں کا استعمال کیا گیا جو اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ یہ دیواریں تیسری صدی قبل مسیح سے دسویں صدی عیسوی تک مسلسل زیر استعمال رہی تھیں۔
لیو بن نے واضح کیا کہ اس سال ہمارا منصوبہ محل کے علاقے میں باقاعدہ کھدائی کرنے کا ہے تاکہ قدیم شہر کی مکمل ترتیب اور اس کے مختلف فنکشنل زونز کو مزید واضح کیا جا سکے۔




