پیر, جنوری 12, 2026
انٹرنیشنلسویڈن کا شہریت کے حصول اور واپسی کا عمل مزید سخت بنانے...

سویڈن کا شہریت کے حصول اور واپسی کا عمل مزید سخت بنانے کا اعلان

سویڈن نے شہریت کے حصول اور واپسی کے عمل کو مزید سخت بنانے کا اعلان کر دیا ہے۔

غیر ملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق سویڈن میں پناہ کی تلاش میں آنیوالے افراد کی تعداد میں گزشتہ سال 30فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے جو 1985 کے بعد اب تک کی کم ترین سطح ہے، سویڈن کی موجودہ حکومت نے ستمبر میں ہونیوالے عام انتخابات سے قبل قوانین کو مزید سخت کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے، حکومتی اتحاد جسے امیگریشن مخالف جماعت سویڈن ڈیموکریٹس کی حمایت حاصل ہے، 2022میں برسرِاقتدار آنے کے بعد سے پناہ گزینوں کی تعداد میں کمی کو اپنی کلیدی پالیسی کے طور پر پیش کر رہا ہے، حکومت کا موقف ہے کہ ملک میں گینگ وار اور جرائم کی لہر کی بنیادی وجہ گزشتہ سوشل ڈیموکریٹ حکومتوں کی نرم پالیسیاں اور تارکین وطن کے معاشرے میں انضمام کی ناکامی ہے، سویڈش وزیر امیگریشن جوہان فورسل نے کہا ہے کہ یہ تبدیلی صرف اعداد و شمار تک محدود نہیں بلکہ اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ اب سویڈن آنیوالے لوگوں کی نوعیت بدل چکی ہے۔

مائیگریشن بورڈ کے اعداد و شمار کے مطابق یوکرین کے پناہ گزینوں کے علاوہ سویڈن آنیوالے تارکین وطن کی کل تعداد 2024 میں 82ہزار 857تھی جو 2025میں کم ہو کر 79ہزار 684رہ گئی ہے، اعداد و شمار میں سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ کل تارکین وطن میں پناہ گزینوں اور انکے خاندانوں کا حصہ صرف چھ فیصد رہا جبکہ 2018میں یہ شرح 31فیصد تھی، حکومت نے نہ صرف پناہ سے متعلق قوانین سخت کئے ہیں بلکہ ملک چھوڑنے والے افراد کیلئے مالی مراعات اور ملک بدری کے عمل کو بھی تیز کیا ہے۔

وزیر امیگریشن کے مطابق آئندہ برس شہریت کے حصول اور واپسی کے عمل کو مزید سخت بنایا جائیگا۔

انٹرنیوز
+ posts
متعلقہ خبریں
- Advertisment -
Google search engine

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

error: Content is protected !!